ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی، چہرہ بگڑ چکا ہے، امریکی وزیرِ دفاع کا دعویٰ
- نو منتخب سپریم لیڈر معمولی زخمی ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، ایرانی عہدیدار
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں اور غالب امکان ہے کہ ان کا چہرہ بگڑ چکا ہے ۔ انہوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے تقریباً دو ہفتوں سے جاری حملوں کے بعد خامنہ ای کی حکومت کرنے کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
جنگ کے آغاز میں ہونے والے اسرائیلی حملے کے بعد سے، جس میں ان کے والد اور اہلیہ سمیت خاندان کے اکثر افراد شہید ہوگئے تھے، مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی بھی تصویر یا ویڈیو منظرِ عام پر نہیں آئی ہے۔
ان کے پہلے باقاعدہ تبصرے جمعرات کو ایک بیان کی صورت میں سامنے آئے جسے ٹیلی ویژن پریزینٹر نے پڑھ کر سنایا۔ اس بیان میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا عہد کیا اور پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے بند کر دیں، بصورتِ دیگر ایران انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔
ہیگستھ نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نئے، نام نہاد ’ناقابلِ برتری‘ لیڈر زخمی ہیں اور غالب امکان ہے کہ ان کا چہرہ بگڑ چکا ہے۔ انہوں نے کل ایک بیان جاری کیا جو کہ حقیقت میں ایک کمزور بیان تھا، لیکن اس میں نہ تو ان کی آواز تھی اور نہ ہی کوئی ویڈیو۔ یہ محض ایک تحریری بیان تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس کیمروں اور وائس ریکارڈرز کی کوئی کمی نہیں۔ پھر صرف تحریری بیان ہی کیوں؟ میرا خیال ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ کیوں۔ ان کے والد شہید چکے ہیں۔ وہ (مجتبیٰ خامنہ ای) خوفزدہ ہیں، زخمی ہیں، جان بچا کر بھاگ رہے ہیں اور ان کے پاس کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔
بدھ کو ایک ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ نو منتخب سپریم لیڈر معمولی زخمی ہوئے تھے لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل سرکاری ٹیلی ویژن نے انہیں جنگ میں زخمی قرار دیا تھا۔
بریفنگ کے دوران وزیرِ دفاع ہیگستھ کے ساتھ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی موجود تھے جہاں انہوں نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور اس کی بحریہ کو مفلوج کرنے کے لیے امریکی فوجی حملوں پر زور دیا۔
























Comments