کنگ چارلس کے بھائی اینڈریو کی ایپسٹین کو خفیہ دستاویز بھیجنے کے الزام پر گرفتاری اور رہائی
- 66 سالہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے ٹیمز ویلی پولیس کے تفتیش کاروں نے پورا دن پوچھ گچھ کی
برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو سرکاری عہدے میں بدانتظامی کے شبے میں گرفتاری کے بعد جمعرات کی شام پولیس حراست سے رہا کر دیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تجارتی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے خفیہ سرکاری دستاویزات امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
66 سالہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے ٹیمز ویلی پولیس کے تفتیش کاروں نے پورا دن پوچھ گچھ کی۔ پولیس کے مطابق اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اس الزام کی تحقیقات کر رہی ہے کہ انہوں نے 2010 میں سرکاری دوروں سے متعلق رپورٹس ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔ گرفتاری کے بعد انہیں زیرِ تفتیش رہائی دے دی گئی ہے۔
کنگ چارلس نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں اس خبر پر گہری تشویش ہے تاہم قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شاہی خاندان متعلقہ حکام سے مکمل تعاون کرے گا۔ بکنگھم پیلس کو گرفتاری کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اینڈریو، ملکہ الزبتھ دوم کے دوسرے بیٹے ہیں اور ماضی میں ایپسٹین سے تعلقات کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کر چکے ہیں۔ وہ پہلے ہی 2019 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو چکے تھے اور گزشتہ برس ان سے اعزازات اور خطابات بھی واپس لے لیے گئے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے تاہم ایپسٹین سے دوستی پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
پولیس نے وضاحت کی کہ گرفتاری کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں بلکہ معقول شبہ کی بنیاد پر کارروائی ہے۔ سرکاری عہدے میں بدانتظامی ثابت ہونے کی صورت میں انہیں عمر قید تک سزا ہو سکتی ہے اور مقدمہ کراؤن کورٹ میں سنا جائے گا۔
یہ تفتیش 2022 میں ورجینیا جیوفری کی جانب سے دائر سول مقدمے سے متعلق نہیں، جسے بعد ازاں تصفیے کے ذریعے نمٹا دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی دلچسپی کے پیش نظر مناسب وقت پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔






















Comments