جماعت اسلامی بنگلا دیش نے عام انتخابات میں شکست تسلیم کرلی
- بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، الیکشن کمیشن
جماعت اسلامی بنگلا دیش نے عام انتخابات میں شکست تسلیم کرلی
جماعت اسلامی بنگلا دیش نے ہفتے کو کہا کہ اس نے انتخابات کے مجموعی نتائج کو قبول کرلیا ہے، باوجود اس کے کہ اس سے قبل ووٹوں کی گنتی میں مسائل کے الزامات لگائے گئے تھے۔
جمعرات کو ہونے والے انتخابات 2024 کی ہلاکت خیز بغاوت کے بعد پہلے انتخابات تھے اور الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔
جماعت کے 67 سالہ امیر شفیق الرحمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ کمیشن سے تلافی کا مطالبہ کریں گے جبکہ ان کی جماعت نے انتخابی نتائج میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔
تاہم ہفتے کو انہوں نے اپنی شکست تسلیم کرلی۔
شفیق الرحمان نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی حقیقی جمہوری سفر میں قیادت کا اصل امتحان صرف یہ نہیں ہوتا کہ ہم انتخابی مہم کیسے چلاتے ہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہم عوام کے فیصلے پر کیا ردِعمل دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم مجموعی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔
عبوری سربراہ محمد یونس نے بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو ان کی جماعت کی بھاری کامیابی پر مبارکباد دی جبکہ وہ خود عہدہ چھوڑنے اور منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔
85 سالہ نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس جو اگست 2024 کی بغاوت کے بعد سے بطور چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش کی قیادت کررہے ہیں نے اپنے بیان میں کہا کہ طارق رحمان ملک کو استحکام، شمولیت اور ترقی کی جانب لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں جبکہ اس کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔
شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک بیدار، بااصول اور پرامن اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے اور حکومت کا محاسبہ کریں گے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ بااصول اور پرامن سیاست کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔
انہوں نے ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی کی نشستوں میں ہونے والے بڑے اضافے کا ذکر کیا، بشمول اس دور کے جب معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے آمرانہ دورِ حکومت میں انہیں کچل دیا گیا تھا۔
جماعت کے امیر شفیق الرحمان نے مزید کہا کہ ہماری تحریک کبھی بھی محض ایک الیکشن تک محدود نہیں تھی۔ اس کا مقصد جمہوری کلچر کو مضبوط کرنا، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا اور ایک منصفانہ و جوابدہ ریاست کی تعمیر کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 77 نشستوں کے ساتھ ہم نے پارلیمنٹ میں اپنی موجودگی کو تقریباً چار گنا بڑھا لیا ہے اور جدید بنگلہ دیشی سیاست میں سب سے مضبوط اپوزیشن بلاکس میں سے ایک بن گئے ہیں۔ یہ کوئی ناکامی نہیں، بلکہ ایک بنیاد ہے۔























Comments