پروزیومر ریگولیشنز 2026: پاور ڈویژن کی نیپرا سے نظرثانی کی درخواست
- توقع ہے کہ نیپرا پاور ڈویژن کی اس درخواست پر غور کرے گا
پاور ڈویژن نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے پروزیومر ریگولیشنز 2026 پر نظرِ ثانی کے لیے رجوع کر لیا ہے۔
توقع ہے کہ نیپرا پاور ڈویژن کی اس درخواست پر غور کرے گا جس میں حال ہی میں نافذ کردہ پروزیومر ریگولیشنز پر دوبارہ نظرِ ثانی اور ضروری ترامیم کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ ان موجودہ صارفین کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے جنہوں نے سولر سسٹم کی تنصیب پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
پاور ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق 9 فروری 2026 کو نیپرا (پروزیومر) ریگولیشنز 2026’ کے نوٹیفکیشن کے بعد مختلف فورمز پر عوامی سطح پر پائی جانے والی شدید تشویش کے پیشِ نظر یہ معاملہ (دوبارہ) نیپرا کو بھیج دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کے لیے ان ضوابط (ریگولیشنز) پر نظرِثانی کا معاملہ نیپرا کے ساتھ اٹھائے۔ خاص طور پر، ان ہدایات میں درج ذیل نکات شامل ہیں:(i) اس بات کو یقینی بنانا کہ موجودہ صارفین کے لیے ہر ممکن تحفظ کی ضمانت دی جائے۔(ii) ایک جامع طریقہ کار (میکانزم) وضع کرنا تاکہ تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا مالی بوجھ، نیشنل گرڈ کے 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد (عام) صارفین پر منتقل نہ ہو۔
ان ہدایات کی تعمیل میں پاور ڈویژن نے نیپرا سے پروزیومر ریگولیشنز پر فوری نظرِ ثانی کی درخواست کی ہے۔ پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ 9 فروری 2026 تک نیٹ میٹرنگ کے درست لائسنس رکھنے والے صارفین کے مفادات کا تحفظ کیا جائے، بالخصوص ان مراعات کے حوالے سے جو منسوخ شدہ نیٹ میٹرنگ ضوابط کے تحت دستیاب تھیں۔
تاہم نئے صارفین کے لیے پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے تحت مقرر کردہ فریم ورک اور طریقہ کار ہی لاگو ہوگا۔
پاور ڈویژن نے مزید درخواست کی ہے کہ جب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ان صارفین کے لیے منسوخ شدہ ’نیٹ میٹرنگ میکانزم‘ کے تحت کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے جن کے پاس 9 فروری 2026 تک کے درست لائسنس موجود ہیں۔
نیپرا اور پاور ڈویژن دونوں کو پارلیمنٹ اراکین کے ساتھ ساتھ نیٹ میٹرنگ صارفین کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے، جن میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے بجلی کے بلوں کو کم کرنے کے لیے آن گرڈ اور آف گرڈ سولر سسٹم کی تنصیب پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں۔
تاہم پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ وہ صارفین جنہوں نے نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب نہیں کیے جنہیں نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری کہا جا رہا ہے، موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے باعث تقریباً 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافی مالی بوجھ برداشت کررہے ہیں۔ مزید برآں پاور ڈویژن کے مطابق تیزی سے بڑھتی سولرائزیشن قومی گرڈ سسٹم کے لیے ایک مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments