BR100 Increased By (0.59%)
BR30 Increased By (0.86%)
KSE100 Increased By (0.42%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.38 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.93 Increased By ▲ 0.14 (0.16%)
FCCL 53.49 Increased By ▲ 0.66 (1.25%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.82 Increased By ▲ 0.85 (4.48%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.02 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.71 Decreased By ▼ -0.18 (-0.65%)
MLCF 87.00 Increased By ▲ 0.49 (0.57%)
OGDC 322.90 Increased By ▲ 2.94 (0.92%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 16.98 Increased By ▲ 0.31 (1.86%)
PIOC 268.15 Increased By ▲ 2.09 (0.79%)
PPL 229.39 Increased By ▲ 1.21 (0.53%)
PRL 34.87 Increased By ▲ 0.19 (0.55%)
SNGP 99.39 Increased By ▲ 0.21 (0.21%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.40 (1.5%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.28 (3.38%)
TPLP 8.61 Increased By ▲ 0.39 (4.74%)
TRG 69.85 Increased By ▲ 0.14 (0.2%)
UNITY 11.68 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

ورلڈ بینک کا نیپرا کی خود مختاری پر تشویش کا اظہار

  • ملک کی کاروباری برادری اور صنعتی شعبے کا بھی پاور ڈویژن کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار
شائع January 21, 2026 اپ ڈیٹ January 21, 2026 03:58pm

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ عالمی بینک نے نیپرا ایکٹ 1997 اور الیکٹرسٹی ایکٹ 1910 میں مجوزہ ترامیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان ترامیم کے نتیجے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی خودمختاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مجوزہ تبدیلیوں کے تحت مختلف ریگولیٹری تجاویز کی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کی اصطلاح کو پاور ڈویژن یا متعلقہ ڈویژن سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اتوار کو ایک غیر معمولی پیش رفت میں، موجودہ وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیپرا کی ’اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2024-25‘ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کی عوامی سطح پر تردید کر دی۔

ذرائع کے مطابق عالمی بینک نے متعلقہ حکام کے ساتھ ایک اجلاس کیا ہے جس میں ’وفاقی حکومت‘ کی جگہ ’ڈویژن‘ کی اصطلاح شامل کرنے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ آئندہ چند دنوں میں ایک اور اجلاس متوقع ہے۔

ملک کی کاروباری برادری اور صنعتی شعبے نے بھی پاور ڈویژن کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ ریگولیٹر (نیپرا) کو اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا ایکٹ میں ترامیم سے متعلق پاور ڈویژن کے اقدام کا نوٹس لے لیا ہے۔

ذرائع نے وزیرِ اعظم آفس کے حوالے سے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے وزیرِ توانائی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر ان سے (وزیرِ اعظم سے) بات چیت کریں۔

ایکٹ کی دفعہ 3(اے) اتھارٹی (نیپرا) کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ بجلی پیدا کرنے والی، ترسیل کرنے والی اور تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے برقی توانائی کی فراہمی کے لیے ٹیرف، نرخ، چارجز اور دیگر شرائط و ضوابط کا تعین کرے، اور نوٹیفیکیشن کے لیے ان کی سفارش متعلقہ ڈویژن کو کرے۔

ترمیم شدہ دفعہ 31(7) کے تحت، نیپرا کے منظور شدہ ٹیرف یا یکساں (یونیفارم) ٹیرف بشمول بجلی کی فراہمی کے نرخوں، چارجز اور دیگر شرائط و ضوابط کا نوٹیفیکیشن، اتھارٹی کی جانب سے اطلاع موصول ہونے کے 30 دنوں کے اندر متعلقہ ڈویژن کے ذریعے سرکاری گزٹ میں شائع کیا جائے گا۔

اگر ڈویژن مقررہ وقت کے اندر ٹیرف کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے یا نظرِ ثانی کے لیے معاملہ دوبارہ نیپرا کو بھیجنے میں ناکام رہتا ہے، تو اتھارٹی (نیپرا) اپنے منظور شدہ ٹیرف کو فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے، تاہم یہ نفاذ ڈویژن کی جانب سے نظرِ ثانی کی درخواست پر ہونے والی کسی بھی بعد کی تبدیلی (ایڈجسٹمنٹ) کے تابع ہوگا۔

دفعہ 31(7)(i) یہ فراہم کرتی ہے کہ متعلقہ ڈویژن، پبلک سیکٹر کی تقسیم کار اور سپلائی کمپنیوں (لائسنس ہولڈرز) کے منظور شدہ ٹیرف سے متعلق نیپرا کی اطلاع موصول ہونے کے 30 دنوں کے اندر، اتھارٹی سے ان مسائل پر اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کا تقاضا کر سکتا ہے جو ان تمام کمپنیوں میں مشترک ہوں۔ اس کے بعد نیپرا کے لیے لازم ہوگا کہ وہ 30 دنوں کے اندر نظرِ ثانی مکمل کرے اور اس کے مطابق متعلقہ ڈویژن کو مطلع کرے۔

دفعہ 31(7)(ii) کے تحت، نیپرا کیپیسٹی اور ٹرانسمیشن چارجز، ترسیل و تقسیم کے نقصانات ، آپریشن اور دیکھ بھال کے متغیر اخراجات اور متعلقہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ پالیسی گائیڈ لائنز کی بنیاد پر 15 دنوں کے اندر سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔

ایڈجسٹ شدہ ٹیرف کی اطلاع گزٹ نوٹیفیکیشن سے قبل متعلقہ ڈویژن کو دی جائے گی۔ ڈویژن 15 دنوں کے اندر نظرِ ثانی کی درخواست کر سکتا ہے، بصورتِ دیگر نیپرا خود سرکاری گزٹ میں ایڈجسٹ شدہ ٹیرف کا نوٹیفیکیشن جاری کر دے گا۔ اگر نظرِ ثانی کی درخواست کی جاتی ہے، تو نیپرا کے لیے 15 دنوں کے اندر معاملے کا فیصلہ کرنا اور نوٹیفیکیشن سے قبل ڈویژن کو مطلع کرنا لازم ہوگا۔

دفعہ 31(7)(iii) متعلقہ ڈویژن کو نظرِ ثانی کی درخواست کرنے کے بجائے اپیل دائر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ تاہم، ایک بار جب نظرِ ثانی کی درخواست دائر کر دی جائے، تو پاور ڈویژن اس نظرِ ثانی کے فیصلے کے خلاف بعد میں اپیل کرنے کا حقدار نہیں ہوگا۔ دفعہ 31(7)(iv) میں کوئی تبدیلی تجویز نہیں کی گئی ہے۔

اسی طرح الیکٹرسٹی ایکٹ 1910 میں بھی ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت لفظ وفاقی حکومت کو مناسب اتھارٹی یا متعلقہ ڈویژن سے بدلا جارہا ہے۔

ترمیم شدہ دفعہ 32(2) کے تحت، کسی آپریٹر اور ٹیلی گراف اتھارٹی کے درمیان بجلی کی سپلائی لائنوں کی تنصیب یا ان کے آپریشن سے متعلق کسی بھی تنازعہ کو متعلقہ ڈویژن کو ریفر کیا جائے گا، جو آپریٹر کو قانون کی تعمیل کے لیے ضروری تبدیلیاں کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔ دفعہ 53(1)(a) میں کی گئی ترامیم نوٹسز، احکامات یا دستاویزات کی ترسیل سے متعلق ہیں، جن میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ جہاں وصول کنندہ وفاقی یا صوبائی حکومت ہو، وہاں ایسی دستاویزات کی ترسیل متعلقہ ڈویژن کے نامزد کردہ دفتر میں کی جائے گی۔

’بزنس ریکارڈر‘ نے پاور ڈویژن کو چند سوالات ارسال کیے۔ وہ سوالات اور ان کے جوابات درج ذیل ہیں:

ان ترامیم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد طریقہ کار کی مشکلات کو ختم کرنا اور غیر ضروری انتظامی تاخیر سے بچنا ہے۔ ’مصطفیٰ امپیکس‘ کیس کے فیصلے کے بعد، وفاقی کابینہ نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ موجودہ قوانین، قواعد اور ضوابط کا جائزہ لیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ معمول کے اور تکنیکی معاملات کو اس وقت تک کابینہ کے پاس نہ بھیجا جائے جب تک ان کا وہاں جانا ناگزیر نہ ہو۔ اسی کے مطابق، ان ترامیم میں بنیادی طور پر محدود طریقہ کار کے تناظر میں لفظ ’وفاقی حکومت‘ کو ’متعلقہ ڈویژن‘ سے تبدیل کیا گیا ہے تاکہ فائلنگ، نوٹیفیکیشنز اور تکنیکی جائزوں کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے اور ایسا کرتے ہوئے اصل ریگولیٹری فریم ورک میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

کیا یہ ترامیم نیپرا کو پاور ڈویژن کا ایک ماتحت ادارہ بنا دیں گی؟

نہیں یہ تاثر درست نہیں ہے۔ یہ ترامیم کسی بھی طرح سے نیپرا کو پاور ڈویژن کے ماتحت نہیں بناتی ہیں۔ نیپرا ایک آزاد قانونی ریگولیٹر رہے گا جو انتظامی طور پر وفاقی کابینہ کو رپورٹ کرتا ہے۔ ایسی کوئی ترامیم تجویز نہیں کی گئیں جن کے لیے ’رولز آف بزنس‘ میں تبدیلی کی ضرورت ہو یا جو نیپرا کی قانونی حیثیت، خود مختاری، یا اس کے نیم عدالتی اختیارات کو تبدیل کرتی ہوں۔ یہ ترامیم مکمل طور پر انتظامی نوعیت کی ہیں اور نیپرا کے بنیادی ریگولیٹری مینڈیٹ میں مداخلت نہیں کرتی ہیں۔

کیا یہ ترامیم پاور ڈویژن کو وفاقی کابینہ کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ہدایات جاری کرنے کی اجازت دیں گی؟

جی نہیں۔ جہاں کہیں بھی پالیسی فیصلوں یا پالیسی ہدایات کا معاملہ آتا ہے، وہاں قانون میں لفظ وفاقی حکومت کو جان بوجھ کر برقرار رکھا گیا ہے۔ مجوزہ ترامیم کسی بھی مقام پر پاور ڈویژن کو یہ اختیار نہیں دیتیں کہ وہ آزادانہ طور پر پالیسی ہدایات جاری کرے یا وفاقی کابینہ کو نظر انداز کرے۔ ان تبدیلیوں کا دائرہ کار صرف اور صرف طریقہ کار اور تکنیکی معاملات تک محدود ہے۔

یہ ترامیم کب تک ایوان (پارلیمنٹ) میں پیش کیے جانے کی توقع ہے؟

وفاقی کابینہ نے مجوزہ ترامیم کے ڈرافٹ (مسودے) کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے بعد، قانون سازی کے اس مسودے کی باقاعدہ قانونی جانچ پڑتال اور اسے حتمی شکل دینے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ یہ عمل مکمل ہوتے ہی، مقررہ قانون سازی کے طریقہ کار کے مطابق، پارلیمانی امور کے ڈویژن کے ذریعے اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف