سندھ نے 2026 سے مارکس سسٹم ختم کر کے گریڈنگ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کر دیا
- نئی پالیسی کے تحت 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلباء کو ناکام قرار دیا جائے گا
سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں روایتی مارکس سسٹم ختم کر دیا ہے اور میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کے لیے نیا گریڈنگ سسٹم منظور کر لیا ہے، یہ بات ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی۔
سندھ کے وزیر برائے یونیورسٹیز اور تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راھو نے کہا کہ یہ نیا نظام بین الاقوامی معیار پر مبنی ہے اور وفاقی سطح پر انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن ( آئی بئ سئ سئ ) کی پالیسی ہدایات کے مطابق منظور کیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت، 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلباء کو ناکام قرار دیا جائے گا۔ اب سے نتائج عددی نمبروں کی بجائے گریڈز کی شکل میں جاری کیے جائیں گے۔
گریڈنگ سسٹم کے تحت طلباء کی کارکردگی درج ذیل طور پر درجہ بندی کی جائے گی:
-
A++ (96–100٪)
-
A+ (91–95٪)
-
A (86–90٪)
-
B++ (81–85٪)
-
B+ (76–80٪)
-
B (71–75٪)
-
C+ (61–70٪)
-
C (51–60٪)
-
D (40–50٪)
-
40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلباء کو “U” گریڈ دیا جائے گا، جس کا مطلب ہے ناکام یا انڈر گریڈ۔
محمد اسماعیل راھو نے کہا کہ کم از کم پاسنگ مارک 40 فیصد مقرر کر دی گئی ہے، اور کسی بھی مضمون میں اس سطح سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلباء کو انڈر گریڈ قرار دیا جائے گا۔ ایسے طلباء کو نتائج بہتر کرنے کے لیے اسی مضمون میں دوبارہ امتحان دینے کی اجازت دی جائے گی۔
وزیر نے کہا کہ نیا گریڈنگ سسٹم مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ 2026 سے یہ گریڈنگ کلاس 9 اور کلاس 11 (SSC-I اور HSSC-I) کے پہلے سالانہ امتحانات پر لاگو ہوگی، جبکہ 2027 میں یہ کلاس 10 اور کلاس 12 (SSC-II اور HSSC-II) تک توسیع پائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس اصلاح کا مقصد ملک کے تمام تعلیمی بورڈز میں یکسانیت کو یقینی بنانا ہے۔ گریڈنگ سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں گریڈ پوائنٹ ایوریج (جی پی اے) سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
اسماعیل راھو کے مطابق سندھ حکومت نے باضابطہ طور پر نئی امتحانی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔






















Comments