پر تشدد احتجاج بڑھنے کا خدشہ، پینٹاگون کا 1,500 فوجیوں کو منی سوٹا میں تعیناتی کیلئے تیاری کا حکم
- اس سلسلے میں فوجی یونٹوں کو فوراً متحرک کرنے کے بجائے انہیں تیاری کی ہدایات جاری کی گئی ہیں
واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تقریباً پندرہ سو حاضر ڈیوٹی فوجیوں کو ممکنہ طور پر ریاست منی سوٹا میں تعیناتی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس خدشے کے تحت کیا گیا ہے کہ ریاست میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے باعث تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور حالات قابو سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں فوجی یونٹوں کو فوراً متحرک کرنے کے بجائے انہیں تیاری کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر مختصر نوٹس پر تعیناتی ممکن ہو سکے۔
یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ریاستی حکام امیگریشن افسران کے خلاف جاری احتجاج اور مبینہ حملوں کو نہ روک سکے تو وہ انسریجیکشن ایکٹ نافذ کر دیں گے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ اگر منی سوٹا کے سیاست دان قانون کی پابندی نہ کریں اور ان لوگوں کو نہ روکیں جنہیں انہوں نے پیشہ ور مظاہرین اور غدار قرار دیا ہے تو وہ ریاست میں فوج تعینات کرنے کا کامل اختیار استعمال کریں گے۔
انسریجیکشن ایکٹ ایک صدارتی اختیار ہے جو اندرون ملک بدامنی یا ریاستی ناکامی کی صورت میں وفاقی فوج تعینات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ناقدین اس اختیار کے استعمال کو انتہائی حساس اور سیاسی لحاظ سے متنازع تصور کرتے ہیں جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایسے حالات میں قانون کی عملداری یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ حکام نے صرف اتنا اشارہ دیا ہے کہ فوج کی تیاری احتیاطی نوعیت کی ہے اور کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ منی سوٹا میں احتجاج امیگریشن قوانین کے خلاف شدت اختیار کرچکے ہیں اور حکومتی ادارے ان مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالات اگر مزید بگڑے تو وفاقی حکومت کا ردعمل تیز اور واضح ہوسکتا ہے۔






















Comments