وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ملک میں ایکسپورٹ ایمرجنسی (برآمدی ہنگامی حالت) نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت وزیرِاعظم ہاؤس میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے گا جو کاروباری برادری کو درپیش مسائل اور رکاوٹوں کو فوری طور پر حل کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد برآمدات کو چار سال میں 40 فیصد اور 2035 تک 200 فیصد تک بڑھانا ہے۔
ان کا بیان برآمدات میں ہونے والی اس کمی کے ادراک کی عکاسی کرتا ہے جس کی وجہ سے رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے جو 14,271 ملین ڈالر کے مقابلے میں 19,204 ملین ڈالر (منفی) رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے غیر ملکی قرضوں پر انحصار بدستور جاری ہے جس میں دوست ممالک سے قرضوں کی واپسی میں تاخیر (رول اوورز) کے ساتھ دو طرفہ اور کثیر جہتی اداروں سے لیے جانے والے قرضے شامل ہیں۔
کسی بھی مسئلے کا ادراک اس کے حل کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ شعبے کے ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز (شراکت دار) مسئلے کے اسباب کا گہرائی سے جائزہ لیں اور اسے مختصر، درمیانی اور مثالی طور پر طویل مدت میں حل کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات کا ایک مجموعہ تیار کریں۔
سرکاری دفاتر میں تجرباتی تحقیق (ایمپیریکل ریسرچ) کا ایک بڑا ذخیرہ دھول چاٹ رہا ہے جو پاکستان کے معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر (سائیکلیکل وولٹیلیٹی) کے پیچھے چھپی وجوہات کی نشاندہی کرتا ہے۔
اکتوبر 2024 کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ، بعنوان توسیع شدہ فنڈ سہولت کی درخواست میں مسئلے کے اصل نکتے کو دہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ معاشی عدم استحکام میں صرف اضافہ ہی ہوا ہے اور پاکستان کے معاشی عروج و زوال (بوم اینڈ بسٹ) کے نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان گہرا تعلق رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خطے کے 9 دیگر ممالک کے مقابلے میں سن 2000 سے اب تک ملک کی برآمدی نمو (ایکسپورٹ گروتھ) آخری سے دوسرے نمبر پر رہی ہے جب کہ عالمی منڈی میں پاکستان کی فروخت خاص طور پر 2010 کی دہائی کے دوران جمود کا شکار رہی۔
ملک کی تجارتی پابندیوں (بشمول زرِ مبادلہ کے اقدامات، ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹیں، ادائیگیوں پر پابندیاں وغیرہ) نے اسے مستقل طور پر ’میژرمنٹ آف ایگریگیٹ ٹریڈ ریسٹرکشنز انڈیکس (تجارتی پابندیوں کے مجموعی پیمانے) کے 90 ویں پرسنٹائل کے آس پاس رکھا ہوا ہے۔ تحفظ کی اس بلند سطح نے پاکستان کی مسابقت کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں کی، بلکہ غالباً اسے نقصان پہنچایا ہے۔ صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ایکسپورٹ ایمرجنسی سیل ان مشاہدات کا نوٹس لے گا اور ماضی کی ان غلطیوں کو نہیں دہرائے گا جن میں برآمدات بڑھانے کے مقصد سے مخصوص بااثر شعبوں کو مالی اور ٹیکس سبسڈیز دی جاتی تھیں، کیونکہ اس سے معاشی عروج و زوال (بوم اینڈ بسٹ) کا چکر دوبارہ فعال ہو جائے گا۔
اگرچہ وزیرِ اعظم آفس میں ایکسپورٹ ایمرجنسی سیل کا قیام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو اعلیٰ ترین انتظامی سطح پر جگہ دی ہے جس سے موزوں پالیسی فیصلے فوری طور پر لینے میں آسانی ہوگی، تاہم اس کے ساتھ ہی ان وعدوں کا بغور جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے جو معاشی ٹیم کے سربراہان نے آئی ایم ایف (فنڈ) سے کیے ہیں۔ یہ ایسے وعدے ہیں جن کی عدم تکمیل نہ صرف اگلی قسط کے رکنے کا باعث بن سکتی ہے بلکہ، جیسا کہ 2019 سے واضح ہے، تین دوست ممالک کی جانب سے 12 ارب ڈالر کے قرضوں کو اگلے سال کے لیے رول اوور (موخر) کرنے سے انکار کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔
آئی ایم ایف (فنڈ) کا مشورہ اس کے اس مشاہدے میں پوشیدہ ہے کہ برآمدی مصنوعات کا زیادہ تر انحصار زراعت اور ٹیکسٹائل پر ہونے کی وجہ سے ملک کو اپنے وسائل جدید تکنیکی مصنوعات کی جانب منتقل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا رہا ہے، تاہم وسائل کی یہ منتقلی موجودہ مائیکرو اکنامک خرابیوں کی وجہ سے رکی ہوئی ہے جن میں زرعی اشیاء کی سرکاری خریداری، خام مال کی قیمتوں پر کنٹرول اور کم پیداواری شعبوں کو دی جانے والی مالی و ٹیکس مراعات شامل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایسی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے جو مالیاتی مراعات یا اسپیشل اکنامک زونز کے قیام پر مبنی نہ ہوں کیونکہ حکومت نے ان زونز کو بتدریج ختم کرنے اور نئے زونز کا اعلان نہ کرنے کا عہد کیا ہے بلکہ تمام موجودہ معاشی بگاڑ کو ختم کرنے پر مبنی ہوں۔
اگر ماضی کی مثالوں کو دیکھا جائے تو ایکسپورٹ ایمرجنسی سیل ایسے اقدامات اٹھائے گا جو آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے متصادم ہوں گے۔ فنڈ کے ساتھ اپنی سودے بازی کی قوت بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جنہیں فنڈ کی حمایت حاصل ہو، جن میں صنعتوں کی جانب سے ادا کی جانے والی توانائی کی کراس سبسڈی کا خاتمہ، جاری اخراجات میں کمی تاکہ ایسی مالی گنجائش پیدا ہو سکے جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے آڈٹ کے اس شکنجے کو نرم کرسکے جسے صنعتکار ہراساں کیے جانے سے تعبیر کرتے ہیں، کسی بھی نئے منصوبے کی راہ میں حائل سرخ فیتے (بیوروکریسی کی رکاوٹیں) کا خاتمہ اور بجٹ کے وسائل و اخراجات پر اشرافیہ کے قبضے (ایلیٹ کیپچر) کا خاتمہ شامل ہے۔

























Comments
Comments are closed.