دسمبر میں تجارتی خسارہ 24 فیصد بڑھ کر 3.7 ارب ڈالر ہو گیا
- برآمدات 20.4 فیصد کم ہوکر 2.32 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں
دسمبر 2025 کے دوران تجارتی خسارے میں گزشتہ برس کے اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2024 میں ملک کا تجارتی توازن، یعنی برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق 2.99 ارب ڈالر خسارے کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔
نومبر 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ بڑھا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں نمایاں کمی رہی۔
دسمبر 2025 میں برآمدات 2.32 ارب ڈالر رہیں جو دسمبر 2024 میں ریکارڈ ہونے والی 2.91 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 20.4 فیصد کم ہیں۔
دوسری جانب دسمبر 2025 میں درآمدات 6.02 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے 5.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو دسمبر 2025 میں تجارتی خسارہ نومبر 2025 کے 2.89 ارب ڈالر کے مقابلے میں 28 فیصد سے زائد بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اچانک اچھال (اضافے) کی وجہ سے ہوا ہے۔
مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 35 فیصد اضافے کے ساتھ 19.20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 14.27 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں برآمدات تقریباً 9 فیصد کمی کے ساتھ 15.18 ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 16.63 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
دوسری جانب مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں درآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 34.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مالی سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں یہ 30.90 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اس سے قبل رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر 812 ملین ڈالر کے خسارے میں رہا جبکہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 503 ملین ڈالر کے سرپلس میں تھا۔






















Comments