BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 12.98 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.92 (5.26%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.88 Increased By ▲ 0.17 (0.18%)
FCCL 51.90 Increased By ▲ 0.25 (0.48%)
FFL 14.52 Increased By ▲ 0.03 (0.21%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.74%)
HBL 304.76 Increased By ▲ 0.98 (0.32%)
HUBC 198.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.11%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.10 Decreased By ▼ -0.07 (-0.27%)
MLCF 91.47 Increased By ▲ 0.24 (0.26%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 35.25 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
PIBTL 14.75 Increased By ▲ 0.04 (0.27%)
PIOC 239.84 Increased By ▲ 0.22 (0.09%)
PPL 220.00 Decreased By ▼ -1.36 (-0.61%)
PRL 91.52 Increased By ▲ 0.30 (0.33%)
SNGP 90.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.13%)
SSGC 23.35 Increased By ▲ 0.05 (0.21%)
TELE 7.64 Increased By ▲ 0.03 (0.39%)
TPLP 12.40 Decreased By ▼ -0.16 (-1.27%)
TRG 56.01 Increased By ▲ 0.22 (0.39%)
UNITY 8.02 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

دسمبر میں تجارتی خسارہ 24 فیصد بڑھ کر 3.7 ارب ڈالر ہو گیا

  • برآمدات 20.4 فیصد کم ہوکر 2.32 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں
شائع اپ ڈیٹ

دسمبر 2025 کے دوران تجارتی خسارے میں گزشتہ برس کے اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2024 میں ملک کا تجارتی توازن، یعنی برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق 2.99 ارب ڈالر خسارے کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔

نومبر 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ بڑھا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں نمایاں کمی رہی۔

دسمبر 2025 میں برآمدات 2.32 ارب ڈالر رہیں جو دسمبر 2024 میں ریکارڈ ہونے والی 2.91 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 20.4 فیصد کم ہیں۔

دوسری جانب دسمبر 2025 میں درآمدات 6.02 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے 5.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو دسمبر 2025 میں تجارتی خسارہ نومبر 2025 کے 2.89 ارب ڈالر کے مقابلے میں 28 فیصد سے زائد بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اچانک اچھال (اضافے) کی وجہ سے ہوا ہے۔

مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 35 فیصد اضافے کے ساتھ 19.20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 14.27 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں برآمدات تقریباً 9 فیصد کمی کے ساتھ 15.18 ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 16.63 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔

دوسری جانب مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں درآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 34.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مالی سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں یہ 30.90 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اس سے قبل رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر 812 ملین ڈالر کے خسارے میں رہا جبکہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 503 ملین ڈالر کے سرپلس میں تھا۔

Comments

Comments are closed.