3.71 فیصد معاشی شرح نمو پر شدید تنقید، اعدادوشمار پر سوال اٹھ گئے
- سیمنٹ اور اسٹیل کی فروخت میں کمی کے باوجود تعمیراتی سرگرمیوں میں 21 فیصد اضافہ کیسے ہو سکتا ہے،مزمل اسلم
اپوزیشن ارکان اور ماہرینِ معاشیات سمیت حکومت کے ناقدین نے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں 3.71 فیصد جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کی شرحِ نمو کی رپورٹ کے بعد سرکاری اعداد و شمار کی ساکھ پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس شرحِ نمو کی بنیادی وجہ صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ بتایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے بدھ کو سوشل میڈیا پر یہ اعداد و شمار شیئر کیے جس میں صنعتی شعبے میں 9.38 فیصد شرحِ نمو کو نمایاں کیا گیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ یہ ترقی 2025 کی سیلابی صورتحال، مالیاتی سختیوں، توانائی سبسڈی کے خاتمے اور غذائی مہنگائی کے باوجود حاصل ہوئی ہے۔
رات گئے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی کے دوران معیشت نے 3.71 فیصد کی شرحِ نمو ریکارڈ کی ۔ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں ترقی بالترتیب 2.89 فیصد، 9.38 فیصد اور 2.35 فیصد رہی۔
تاہم ان اعداد و شمار کو ماہرینِ معاشیات اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے اس ڈیٹا کو غیر حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ تاریخی طور پر کم سرمایہ کاری کی سطح کے درمیان اقتصادی نمو کیسے تیز ہوسکتی ہے۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ ایسی معیشت میں جی ڈی پی کیسے بڑھنا شروع ہو سکتی ہے جہاں سرمایہ کاری کا تناسب پست ترین سطح پر ہو؟
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کی طرح، جہاں شرحِ نمو 6.17 فیصد دکھائی گئی تھی، یہ مکمل طور پرجعلی اعداد و شمار ہیں۔ کوئی بھی ان پر یقین نہیں کرے گا۔
ماہرِ معاشیات مزمل اسلم جو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ بھی ہیں نے بھی اعدادوشمار میں شعبہ جاتی تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
مزمل اسلم نے سوال اٹھایا کہ سیمنٹ اور اسٹیل کی فروخت میں کمی کے باوجود تعمیراتی سرگرمیوں میں 21 فیصد اضافہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی میں 25 فیصد ترقی کیسے دکھائی گئی جبکہ ایل این جی، فرنس آئل اور درآمدی کوئلے سے چلنے والے پلانٹس میرٹ آرڈر کے مسائل کی وجہ سے بند یا محدود رہے؟
انہوں نے کہا کہ یہ صرف پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے، جہاں تعمیراتی شعبہ سیمنٹ اور اسٹیل کی فروخت سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتا ہے، جانوروں کی ذبیحہ سازی لائیو اسٹاک کی افزائش سے زیادہ بڑھ جاتی ہے، اور گیس و بجلی کی پیداوار تلاش سے زیادہ ہو جاتی ہے، وہ بھی اس وقت جب تمام ایل این جی، فرنس آئل اور درآمدی کوئلے کے پلانٹس میرٹ آرڈر پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے بند ہوں۔
اسی طرح، سیاسی مبصر صبیح کاظمی نے ان اعداد و شمار کو فیک قرار دے کر مسترد کر دیا، اور اس کی وجہ سرمایہ کاری کی ریکارڈ کمی، بے روزگاری کی بلند شرح، مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ اب مزید پاکستانیوں کو نہیں دھوکہ دے سکتے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔
کاظمی کا کہنا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار گھریلو صارفین کو درپیش اقتصادی مشکلات کی عکاسی کرنے میں ناکام ہیں۔






















Comments