اسلامی مالیاتی شعبے میں تاریخی پیشرفت، پاکستان نے دو کھرب روپے سے زائد مالیت کے سکوک جاری کیے
- یہ ریکارڈ اجرا وزارتِ خزانہ کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس اور جائنٹ فنانشل ایڈوائزرز کے تعاون سے مکمل کیا گیا
وزارت خزانہ نے 2025 میں سکوک کے اجراء کا تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جس کے تحت ایک سال میں پہلی بار 2 ہزار ارب روپے سے زائد سکوک جاری کیے گئے۔ یہ 2008 کے بعد کسی ایک کیلنڈر سال میں سکوک کا سب سے بڑا اجرا ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ ریکارڈ اجرا وزارتِ خزانہ کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس اور جائنٹ فنانشل ایڈوائزرز کے تعاون سے مکمل کیا گیا۔ یہ اقدام ملک میں شریعت کے مطابق مالیاتی نظام کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر 2 کھرب روپے سے زائد مالیت کے سکوک بانڈز جاری کئے گئے۔
سکوک ایک اسلامی مالیاتی سرٹیفکیٹ ہوتا ہے، جسے عموماً شریعت کے مطابق بانڈ کے مساوی تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 61 اجراء کے ذریعہ ایک،تین،5 اور دس سالہ مدت کیلئے دو ٹریلین روپے سے زائد کے سکوک جاری کئے گئے۔ خرم شہزادنے کہا کہ کیلنڈرسال کے دوران پاکستان نے اپنا پہلا گرین سکوک بھی کامیابی سے لانچ کیا، جسے سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی اور یہ 5.4 گنا زیادہ سبسکرائب ہوا۔ گرین سکوک کے کیش فلو کیلئے پاکستان ریلوے، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، نیشنل ہائی وے اتھارٹی،کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی، پا کستان سپورٹس بورڈ اورکراچی پورٹ ٹرسٹ کے اثاثے بطور بنیاد استعمال کئے گئے۔
خرم شہزاد کے مطابق 2019 سے 2025 کے دوران مجموعی سکوک اجراء 8.7 کھرب روپے تک پہنچ چکا جبکہ ملک میں موجود سکوک کا حجم 6.6 کھرب روپے ہو گیا ہے۔ مجموعی شریعہ کمپلائنٹ حکومتی قرضہ 7.1 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 تک حکومتی قرض میں اسلامی مالیاتی آلات کا حصہ 14.5 فیصد رہا، جبکہ جون 2025 میں یہ شرح 12.6 فیصد تھی۔
وزارتِ خزانہ نے 2028 تک اسلامی قرضوں کا حصہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
خرم شہزاد نے مزید کہا کہ سکوک کے اجراء نے اسلامی سرمایہ مارکیٹ میں اعتماد اور وسعت میں اضافہ کیا اور مالی استحکام و طویل المدتی ترقی کو تقویت دی ہے۔
یہ پیش رفت حکومتی اندرونی قرضہ جاتی پورٹ فولیو میں اسلامی مالیاتی آلات کے بڑھتے ہوئے کردار کو واضح کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ تاریخی سنگ میل نہ صرف سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کررہاہے بلکہ پاکستان کے خودمختار قرضہ جاتی انتظام کو بھی مزید مستحکم بناتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مستحکم ہوتی ہوئی کلی معیشت کی صورتحال، نظم و ضبط پر مبنی قرضہ جاتی حکمت عملی اور اسلامی مالیات کے لیے واضح روڈ میپ کے ساتھ پاکستان ایک زیادہ مضبوط، متنوع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ حکومتی سکیورٹیز مارکیٹ کے قیام کیلئے اقدامات کر رہاہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments