بھارت کا دیوالی تہوار یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل
- یونیسکو کے مطابق اس فہرست کا مقصد دنیا میں موجود مختلف ثقافتی روایات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے
بھارت کے معروف تہوارِ دیوالی کو بدھ کے روز یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کا اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا، جہاں 78 ممالک کی جانب سے متعدد ثقافتی روایات کو اس فہرست میں شامل کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔
یونیسکو کے مطابق اس فہرست کا مقصد دنیا میں موجود مختلف ثقافتی روایات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دیوالی کی شمولیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تہوار بھارتی ثقافت اور تہذیب سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق دیوالی روشن خیالی اور راست روی کی علامت ہے، اور اس فیصلے سے اس تہوار کی عالمی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
دہلی حکومت نے اس موقع پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا ہے، جن میں سرکاری عمارتوں کی روشنی، سڑکوں کی سجاوٹ اور بڑے پیمانے پر دیے روشن کرنے کی تقریب شامل ہے۔
دیوالی، جسے دیپاولی بھی کہا جاتا ہے، ہندوؤں کے اہم ترین تہواروں میں سے ایک ہے۔ نہ صرف بھارت میں بلکہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ اسے مناتے ہیں۔ سکھ اور جین برادری بھی اسے عقیدت سے مناتی ہے۔ یہ پانچ روزہ تہوار اچھائی کی برائی پر فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اکتوبر یا نومبر کی نئی چاند رات کو منائے جانے والے اس تہوار میں لوگ دیے جلاتے ہیں اور آتش بازی کرتے ہیں۔ شمالی بھارت میں دیوالی رام کی ایودھیا واپسی کی یاد میں منائی جاتی ہے، جبکہ یہ دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی کی عبادت سے بھی منسلک ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے دیوالی کی یونیسکو فہرست میں شمولیت کو ملک کے لیے ایک خوشی کا لمحہ قرار دیا ہے۔




















Comments
Comments are closed.