BR100 Increased By (0.83%)
BR30 Increased By (0.59%)
KSE100 Increased By (0.75%)
KSE30 Increased By (0.8%)
BAFL 57.44 Increased By ▲ 0.24 (0.42%)
BIPL 27.26 Increased By ▲ 0.37 (1.38%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.59 (1.75%)
CNERGY 10.81 Increased By ▲ 0.20 (1.89%)
DFML 18.21 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
DGKC 210.79 Increased By ▲ 0.89 (0.42%)
FABL 100.90 Increased By ▲ 1.95 (1.97%)
FCCL 54.91 Increased By ▲ 1.17 (2.18%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 25.40 Increased By ▲ 1.58 (6.63%)
HBL 303.89 Increased By ▲ 1.47 (0.49%)
HUBC 220.61 Increased By ▲ 1.67 (0.76%)
HUMNL 10.57 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.78 Increased By ▲ 0.13 (0.44%)
MLCF 95.99 Decreased By ▼ -0.37 (-0.38%)
OGDC 318.50 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 43.08 Increased By ▲ 1.31 (3.14%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 299.00 Increased By ▲ 2.38 (0.8%)
PPL 221.09 Increased By ▲ 0.92 (0.42%)
PRL 51.49 Increased By ▲ 2.44 (4.97%)
SNGP 106.50 Increased By ▲ 0.37 (0.35%)
SSGC 28.55 Decreased By ▼ -0.59 (-2.02%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.05 (0.57%)
TPLP 12.92 Increased By ▲ 0.41 (3.28%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.72 Increased By ▲ 0.70 (6.99%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
پاکستان

تاجکستان کا پاکستان سے ایک لاکھ ٹن گوشت درآمد کرنے کا منصوبہ

  • وزیر خوراک رانا تنویر کی تاجکستان کے سفیر یوسف شریفسودہ سے ملاقات، زرعی تجارت اور براہِ راست فضائی رابطے پر بھی گفتگو
شائع اپ ڈیٹ

تاجکستان نے پاکستان سے ایک لاکھ ٹن گوشت خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کی مالیت 50 ملین ڈالر سے زائد ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعاون کا عندیہ ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق یہ بات وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین اور تاجکستان کے پاکستان میں سفیر یوسف شریفسودہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

ملاقات کے دوران سفیر شریفسودہ نے تاجکستان کی جانب سے پاکستان سے زرعی مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا، خاص طور پر گوشت کی مصنوعات پر توجہ دی گئی۔

دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ بڑے پیمانے پر گوشت کی برآمد کے آغاز کے لیے جلد باضابطہ معاہدہ طے پایا جائے گا۔

رانا تنویر حسین نے تاجکستان کی ضروریات کو پورا کرنے میں مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی اور پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک نے موجودہ تجارتی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان تاجکستان کو چاول، مالٹے اور آم برآمد کرتا ہے، تاہم حجم ابھی ممکنہ سطح سے کم ہے۔

پاکستان نے 2024 میں 1.8 ملین ٹن آم پیدا کرنے کے باوجود صرف 0.7 میٹرک ٹن تاجکستان کو برآمد کیا۔ اسی طرح 9.3 ملین ٹن سالانہ پیداوار کے باوجود 2022 میں چاول کی برآمد صرف 240 میٹرک ٹن رہی۔ تاجکستان سے پاکستان کی اہم درآمد جن شدہ کپاس ہے۔

دونوں جانب سے تجارتی حجم بڑھانے، تکنیکی اور لاجسٹک رکاوٹیں کم کرنے اور زرعی تعاون میں آگے بڑھنے پر اتفاق کیا، جس میں تازہ پھل، سبزیاں، گوشت اور بنیادی فصلوں کی تجارت، تحقیق و ترقی، بین الاقوامی معیار کی پاسداری، کیڑوں سے پاک پیداوار کے علاقے قائم کرنا اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تربیت شامل ہے۔

سائنس اور جدت طرازی کے تبادلے کے ذریعے پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

Comments

Comments are closed.