تاجکستان کا پاکستان سے ایک لاکھ ٹن گوشت درآمد کرنے کا منصوبہ
- وزیر خوراک رانا تنویر کی تاجکستان کے سفیر یوسف شریفسودہ سے ملاقات، زرعی تجارت اور براہِ راست فضائی رابطے پر بھی گفتگو
تاجکستان نے پاکستان سے ایک لاکھ ٹن گوشت خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کی مالیت 50 ملین ڈالر سے زائد ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعاون کا عندیہ ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق یہ بات وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین اور تاجکستان کے پاکستان میں سفیر یوسف شریفسودہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
ملاقات کے دوران سفیر شریفسودہ نے تاجکستان کی جانب سے پاکستان سے زرعی مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا، خاص طور پر گوشت کی مصنوعات پر توجہ دی گئی۔
دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ بڑے پیمانے پر گوشت کی برآمد کے آغاز کے لیے جلد باضابطہ معاہدہ طے پایا جائے گا۔
رانا تنویر حسین نے تاجکستان کی ضروریات کو پورا کرنے میں مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی اور پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک نے موجودہ تجارتی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان تاجکستان کو چاول، مالٹے اور آم برآمد کرتا ہے، تاہم حجم ابھی ممکنہ سطح سے کم ہے۔
پاکستان نے 2024 میں 1.8 ملین ٹن آم پیدا کرنے کے باوجود صرف 0.7 میٹرک ٹن تاجکستان کو برآمد کیا۔ اسی طرح 9.3 ملین ٹن سالانہ پیداوار کے باوجود 2022 میں چاول کی برآمد صرف 240 میٹرک ٹن رہی۔ تاجکستان سے پاکستان کی اہم درآمد جن شدہ کپاس ہے۔
دونوں جانب سے تجارتی حجم بڑھانے، تکنیکی اور لاجسٹک رکاوٹیں کم کرنے اور زرعی تعاون میں آگے بڑھنے پر اتفاق کیا، جس میں تازہ پھل، سبزیاں، گوشت اور بنیادی فصلوں کی تجارت، تحقیق و ترقی، بین الاقوامی معیار کی پاسداری، کیڑوں سے پاک پیداوار کے علاقے قائم کرنا اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تربیت شامل ہے۔
سائنس اور جدت طرازی کے تبادلے کے ذریعے پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

























Comments