پاکستان اور سعودی عرب کا بزنس فورم جنوری میں منعقد کرنے کا فیصلہ
- فورم کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار مشترکہ منصوبہ جات کو نمایاں سعودی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنا ہے
حکومت پاکستان نے سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری اور فیڈریشن آف سعودی چیمبرز کے تعاون سے پاکستان۔سعودی بزنس فورم کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جو 14 جنوری 2026 کو ریاض میں منعقد ہوگا۔ ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس فورم کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار مشترکہ منصوبہ جات کو نمایاں سعودی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس سلسلے میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نے وزارت توانائی (پاور ڈویژن) سے درخواست کی ہے کہ وہ 30 نومبر 2025 تک متعلقہ کمپنیوں سے متعلق درکار معلومات فراہم کرے تاکہ بروقت جانچ اور شعبہ وار پورٹ فولیو کی تیاری ممکن بنائی جا سکے جو سعودی شراکت داروں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پاور سیکٹر میں نجی شعبے کے توسیعی اور مشترکہ منصوبوں کی تعداد 10 ہوگی۔
ان منصوبوں میں قابلِ تجدید توانائی جیسے سولر، ونڈ، بایوماس اور چھوٹے ہائیڈل پراجیکٹس، گرڈ کی جدید کاری اور ترسیلی انفراسٹرکچر، انرجی اسٹوریج اور اسمارٹ میٹرنگ حل، ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن اور مائیکرو گرڈز، پاور آلات کی تیاری اور لوکلائزیشن، توانائی کی بچت اور استعداد بڑھانے کی ٹیکنالوجیز شامل ہو سکتی ہیں۔ ہر منصوبہ مقررہ پروجیکٹ انفارمیشن ٹیمپلیٹ کے تحت جمع کرایا جائے گا۔
ایس آئی ایف سی نے ٹاپ 20 بڑی کمپنیوں کی بزنس ڈائریکٹری بھی طلب کی ہے جو سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ ہدفی بی ٹو بی روابط کے لیے معاون ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ پاکستان کے توانائی شعبے کا تفصیلی سیکٹر پروفائل بھی فراہم کیا جائے گا جس میں موجودہ توانائی مکس، پیداواری صلاحیت اور طلب کی پیش گوئیاں، ترسیل و تقسیم کے نظام کا جائزہ، نجکاری منصوبے اور سرمایہ کاری سہولت پالیسیز، قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت، اصلاحات، مراعات اور ریگولیٹری ماحول کے ساتھ سعودی۔پاکستان تعاون کے اہم مواقع شامل ہوں گے۔
یہ تمام معلومات آن لائن پورٹل پر بھی فراہم کی جائیں گی، جو پہلے چین سے متعلق بزنس فورم کی طرز پر ہوگا۔ مطلوبہ ڈیٹا پاکستان انرجی اینڈ پیٹرولیم انویسٹمنٹ پورٹ فولیو 2026 کی تیاری کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے جو 25 نومبر 2025 تک سعودی وزارتوں، چیمبرز اور سرمایہ کاروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل سعودی وزیر نے ریاض میں پاکستانی سفیر سے موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ روا رویے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ اسی تناظر میں 24 جون 2025 کو سعودی اسسٹنٹ وزیر سرمایہ کاری ابراہیم المبارک سے ملاقات میں پاکستانی سفیر کو آگاہ کیا گیا کہ کے الیکٹرک سے متعلق مسائل میں تاخیر پاکستان کی سرمایہ کاری ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے اور مستقبل کی سعودی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کا سرمایہ کاری رسک پروفائل بڑھے گا، انشورنس اخراجات میں اضافہ ہوگا اور متوقع منافع کم ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی سرمایہ کار برادری میں الجمیح کا خاص اثر و رسوخ ہے اور اگر اس کا تجربہ منفی رہا تو دیگر سرمایہ کار بھی پاکستان آنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اکتوبر 2024 میں سعودی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان 34 بی ٹو بی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے جن میں سے کئی موجودہ تنازع کے باعث دوبارہ غور کے مرحلے میں ہیں۔
جواباً پاکستانی سفیر نے سعودی حکام کو یقین دلایا کہ اندرونی مشاورت جاری ہے اور جولائی کے وسط تک فالو اپ ملاقات متوقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نائب وزیر اعظم اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور مخدوم لاجسٹکس کیس کا حالیہ حل پیش رفت کی ایک مثال ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا مقصد سعودی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنا اور مستقبل کی سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.