چین تاجکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا، چینی وزیر خارجہ
- چین کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا، چینی وزیر خارجہ
چین نے تاجکستان سے اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کی درآمدات میں توسیع اور تاجکستان میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے فروغ کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے دارالحکومت دوشنبے کے دورے کے دوران تاجک ہم منصب سراج الدین محردین سے ملاقات میں کہی۔ چینی وزارت خارجہ کے جاری بیان کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ چین تاجکستان کے لیے ایک قابل اعتماد اور بھروسہ مند شراکت دار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
وانگ یی نے چین کے بنیادی مفادات، بشمول تائیوان کے معاملے پر تاجکستان کی مضبوط حمایت پر شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ چین کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین جاپان میں دائیں بازو کی قوتوں کو تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی تائیوان کے معاملے میں کسی بیرونی طاقت کی مداخلت برداشت کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ چین جاپانی عسکریت پسندی کی واپسی کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے حالیہ ریمارکس نے چین اور جاپان کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو جاپان فوجی ردعمل دے سکتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان کی حکومت ان دعوؤں کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کر سکتے ہیں۔
وانگ یی نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر ایک چین پالیسی پر عالمی اتفاق رائے کو برقرار رکھنے اور دوسری جنگ عظیم کی فتح کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے کام کرے گا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون بڑھانے، مشترکہ ترقیاتی منصوبوں اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق ہوا، جس میں دو طرفہ مشترکہ گشت اور سکیورٹی اقدامات شامل ہوں گے۔ چین اور تاجکستان نے باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔






















Comments
Comments are closed.