بنوں، دہشت گردوں کے حملے میں امن کمیٹی کے متعدد اراکین شہید
- لاشوں اور زخمی کو قانونی کارروائی اور علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں جمعہ کو دہشت گردوں نے امن کمیٹی کے دفتر پر فائرنگ کر کے متعدد اراکین کو شہید کر دیا۔
مقامی میڈیا نے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ مسلح شدت پسندوں نے کمیٹی کے اراکین پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور کئی افراد مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ لاشوں اور زخمی کو قانونی کارروائی اور علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یہ مہلک حملہ اس وقت ہوا جب ایک دن قبل سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 30 دہشتگردوں کو ہلاک کیا تھا، جو ملک گیر دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے بیان میں واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہید ہونے والوں کی درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے کے ذمہ داروں کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے بزدلانہ اقدامات، جو امن کے اقدامات کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جاتے ہیں، فتنہ الخوارج کے پاکستان میں انتشار پھیلانے کے شیطانی منصوبوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے اس بات کا یقین دلایا کہ یہ بزدلانہ کارروائیاں کبھی بھی پاکستانی عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں، جو ریاست مخالف عناصر کو ختم کرنے کے لیے متحد ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ بزدلانہ اقدام امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی خطرناک کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج کے ایسے اقدامات عوام کے حوصلے کو کبھی کمزور نہیں کر سکتے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قوم اور ریاست امن کے دشمنوں کے خلاف متحد ہیں۔






















Comments
Comments are closed.