BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Increased By (0.02%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.09%)
BAFL 59.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.27%)
BIPL 27.20 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
BOP 36.48 Increased By ▲ 0.48 (1.33%)
CNERGY 11.82 Increased By ▲ 0.57 (5.07%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 217.99 Decreased By ▼ -2.20 (-1%)
FABL 100.64 Increased By ▲ 0.09 (0.09%)
FCCL 57.29 Increased By ▲ 0.41 (0.72%)
FFL 16.56 Increased By ▲ 0.05 (0.3%)
GGL 24.63 Increased By ▲ 0.73 (3.05%)
HBL 324.99 Decreased By ▼ -0.61 (-0.19%)
HUBC 226.00 Increased By ▲ 2.42 (1.08%)
HUMNL 10.76 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.31 Decreased By ▼ -0.11 (-1.48%)
LOTCHEM 27.16 Decreased By ▼ -0.04 (-0.15%)
MLCF 102.06 Decreased By ▼ -1.03 (-1%)
OGDC 319.15 Increased By ▲ 0.66 (0.21%)
PAEL 43.81 Decreased By ▼ -0.57 (-1.28%)
PIBTL 16.85 Decreased By ▼ -0.05 (-0.3%)
PIOC 274.02 Decreased By ▼ -1.84 (-0.67%)
PPL 221.50 Decreased By ▼ -0.98 (-0.44%)
PRL 63.84 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
SNGP 103.83 Decreased By ▼ -1.08 (-1.03%)
SSGC 27.26 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 8.63 Decreased By ▼ -0.18 (-2.04%)
TPLP 14.99 Increased By ▲ 0.02 (0.13%)
TRG 63.35 Increased By ▲ 0.98 (1.57%)
UNITY 11.56 Decreased By ▼ -0.34 (-2.86%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
پاکستان

افغان طالبان کی حمایت یافتہ ٹی ٹی پی پاکستان میں سرحد پار ہائی پروفائل حملوں کے پیچھے ہے، سلامتی کونسل کمیٹی

  • تقریباً 6,000 جنگجوؤں پر مشتمل ٹی ٹی پی خطے میں ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، سفیر ڈنمارک
شائع اپ ڈیٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 القاعدہ پابندیوں کمیٹی کی سربراہ نے افغان طالبان کی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد بڑے حملے کر چکا ہے جن میں بعض مواقع پر بھاری جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ ڈنمارک کی اقوام متحدہ میں نائب مستقل نمائندہ اور کمیٹی کی چیئرپرسن سفیر سینڈرا جینسن لینڈی نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 6,000 جنگجوؤں پر مشتمل ٹی ٹی پی خطے میں ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اسے عبوری طالبان حکومت کی جانب سے لاجسٹک اور قابل ذکر عملی معاونت حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی دہشت گردی کا خطرہ مسلسل شکلیں بدل رہا ہے، خاص طور پر افریقہ میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاں شدت پسند گروہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پرتشدد عزائم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے متعلق ذیلی اداروں کے سربراہان نے بھی صورتحال پر بریفنگ دی۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک فرنٹ لائن ریاست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے اس ناسور کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جن میں 80,000 سے زائد جانوں کا ضیاع اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان شامل ہے۔ ان کے مطابق القاعدہ کو بڑی حد تک پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں کمزور کیا گیا۔

عثمان جدون نے الزام عائد کیا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ جیسی تنظیمیں شامل ہیں جو وہاں پنپ رہی ہیں اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے بھارت کا نام لیے بغیر اسے خطے کا بنیادی عدم استحکام پیدا کرنے والا فریق قرار دیا۔

پاکستانی نمائندے نے زور دیا کہ 1267 کمیٹی کی پابندیوں کا نظام زمینی حقائق کا عکاس ہونا چاہیے اور فہرستوں میں شمولیت یا اخراج کا عمل شفاف، منصفانہ اور غیر سیاسی ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے ڈھانچے کو پرتشدد انتہا پسند، نسل پرستانہ، اسلام مخالف اور شدت پسند گروہوں کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانی چاہیے۔

دریں اثنا چین کے نمائندے نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ کو دہشت گرد فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف واضح اور مضبوط پیغام دیا جا سکے۔

Comments

Comments are closed.