BR100 Decreased By (-0.15%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Increased By (0.13%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 57.70 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
BIPL 23.15 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 28.24 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
CNERGY 12.54 Decreased By ▼ -1.10 (-8.06%)
DFML 15.40 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
DGKC 180.79 Increased By ▲ 2.64 (1.48%)
FABL 92.40 Increased By ▲ 1.00 (1.09%)
FCCL 53.14 Increased By ▲ 0.86 (1.64%)
FFL 12.75 Decreased By ▼ -0.15 (-1.16%)
GGL 18.77 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 285.80 Decreased By ▼ -5.75 (-1.97%)
HUBC 193.80 Increased By ▲ 0.62 (0.32%)
HUMNL 8.59 Increased By ▲ 0.02 (0.23%)
KEL 5.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.69%)
LOTCHEM 23.95 Increased By ▲ 0.06 (0.25%)
MLCF 91.35 Increased By ▲ 0.84 (0.93%)
OGDC 306.80 Increased By ▲ 0.02 (0.01%)
PAEL 32.22 Decreased By ▼ -0.11 (-0.34%)
PIBTL 12.88 Decreased By ▼ -0.05 (-0.39%)
PIOC 234.60 Increased By ▲ 1.46 (0.63%)
PPL 213.55 Decreased By ▼ -0.38 (-0.18%)
PRL 87.60 Decreased By ▼ -9.36 (-9.65%)
SNGP 90.75 Increased By ▲ 0.22 (0.24%)
SSGC 22.35 Decreased By ▼ -0.18 (-0.8%)
TELE 6.60 Decreased By ▼ -0.12 (-1.79%)
TPLP 12.75 Increased By ▲ 0.15 (1.19%)
TRG 51.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
UNITY 7.79 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 0.94 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

افغان طالبان کی حمایت یافتہ ٹی ٹی پی پاکستان میں سرحد پار ہائی پروفائل حملوں کے پیچھے ہے، سلامتی کونسل کمیٹی

  • تقریباً 6,000 جنگجوؤں پر مشتمل ٹی ٹی پی خطے میں ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، سفیر ڈنمارک
شائع اپ ڈیٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 القاعدہ پابندیوں کمیٹی کی سربراہ نے افغان طالبان کی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد بڑے حملے کر چکا ہے جن میں بعض مواقع پر بھاری جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ ڈنمارک کی اقوام متحدہ میں نائب مستقل نمائندہ اور کمیٹی کی چیئرپرسن سفیر سینڈرا جینسن لینڈی نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 6,000 جنگجوؤں پر مشتمل ٹی ٹی پی خطے میں ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اسے عبوری طالبان حکومت کی جانب سے لاجسٹک اور قابل ذکر عملی معاونت حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی دہشت گردی کا خطرہ مسلسل شکلیں بدل رہا ہے، خاص طور پر افریقہ میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاں شدت پسند گروہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پرتشدد عزائم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے متعلق ذیلی اداروں کے سربراہان نے بھی صورتحال پر بریفنگ دی۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک فرنٹ لائن ریاست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے اس ناسور کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جن میں 80,000 سے زائد جانوں کا ضیاع اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان شامل ہے۔ ان کے مطابق القاعدہ کو بڑی حد تک پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں کمزور کیا گیا۔

عثمان جدون نے الزام عائد کیا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ جیسی تنظیمیں شامل ہیں جو وہاں پنپ رہی ہیں اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے بھارت کا نام لیے بغیر اسے خطے کا بنیادی عدم استحکام پیدا کرنے والا فریق قرار دیا۔

پاکستانی نمائندے نے زور دیا کہ 1267 کمیٹی کی پابندیوں کا نظام زمینی حقائق کا عکاس ہونا چاہیے اور فہرستوں میں شمولیت یا اخراج کا عمل شفاف، منصفانہ اور غیر سیاسی ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے ڈھانچے کو پرتشدد انتہا پسند، نسل پرستانہ، اسلام مخالف اور شدت پسند گروہوں کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانی چاہیے۔

دریں اثنا چین کے نمائندے نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ کو دہشت گرد فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف واضح اور مضبوط پیغام دیا جا سکے۔

Comments

Comments are closed.