پروٹیز کوچ نے باووما کو دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک قرار دیدیا
- کپتان باووما 11 ٹیسٹ میں ناقابلِ شکست ، 10 فتوحات اور ایک میچ ڈرا کے ساتھ شاندار ریکارڈ کے حامل
جنوبی افریقہ کے ہیڈ کوچ شوکری کونراڈ نے کپتان ٹیمبا باووما کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو برس میں وہ دنیا کے بہترین بیٹرز میں سے ایک رہے ہیں جب کہ ایڈن گارڈنز میں بھارت کے خلاف 30 رنز سے حاصل کی گئی فتح میں ان کی دلیرانہ اور میچ جتوانے والی اننگز نے مرکزی کردار ادا کیا۔
باووما بطور کپتان اب تک 11 ٹیسٹ میں ناقابلِ شکست ہیں، جن میں 10 فتوحات ، ایک ڈرا شامل ہے اور اس عرصے میں ان کی بیٹنگ اوسط 57.00 رہی ہے۔
اتوار کو مشکل پچ پر ان کی ناقابلِ شکست 55 رنز کی اننگز نے ٹیم کو 124 رنز کا ہدف دینے میں مدد کی، جس کے جواب میں بھارت کی پوری ٹیم 93 پر آؤٹ ہوگئی۔ پورے میچ میں کوئی دوسرا بیٹر 40 کے عشرے تک نہ پہنچ سکا۔
کونراڈ نے کہا کہ ہمارے بہترین کھلاڑی (باووما) کی واپسی ٹیم میں سکون لے آتی ہے۔ گزشتہ 18 سے 24 ماہ میں وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں رہے ہیں اور انہوں نے دوبارہ ثابت کیا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی اننگز تھی جس میں وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کیا کرنا ہے اور دوسروں کے برعکس اپنے منصوبے پر قائم رہے۔ یہی دونوں ٹیموں میں اصل فرق تھا۔
وہ پُراعتماد تھے کہ اگر وہ اپنے گیم پلان پر قائم رہے، چاہے باہر جاتی گیندیں انہیں بیٹ کر دیں، لیکن جب تک اندر کی گیندوں سے نہیں ہاریں گے، وہ آخر تک بیٹنگ جاری رکھ سکیں گے۔
کونراڈ کے مطابق دونوں ٹیمیں پہلے دن وکٹ کی صورتحال پر حیران رہ گئیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ تھا کہ وکٹ پہلے دن ہی ٹرن لے گی،لیکن اتنی زیادہ ٹرن اور باؤن٘س کی توقع نہیں تھی۔ اس نے دونوں ٹیموں کو چونکا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2010 کے بعد بھارت میں پہلی کامیابی ٹیم کے اعتماد میں بڑا اضافہ کرے گی۔ہم نے اسی سال ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل جیتا تھا، لیکن یہ فتح بھی ہمارے لیے کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں۔ ایڈن گارڈنز میں آکر وہ کرنا جو ہم 15 برس سے نہیں کرسکے تھے، یہ تو خواب جیسی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے ہماری ٹیم میں وہ صلاحیت ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی جو کئی دوسری ٹیموں میں ہے، لیکن جس چیز کی کمی تھی اسے ہم نے متحد ہو کر پورا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھرپور مزاحمت کی ، کبھی ہمت نہیں ہاری، میں اس گروپ پر بہت فخر محسوس کرتا ہوں کہ ان کے اندر کتنی خود اعتمادی ہے۔





















Comments
Comments are closed.