BR100 Decreased By (-0.32%)
BR30 Decreased By (-0.44%)
KSE100 Decreased By (-0.27%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 56.70 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
BIPL 27.01 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
BOP 33.55 Decreased By ▼ -0.20 (-0.59%)
CNERGY 10.00 Increased By ▲ 0.12 (1.21%)
DFML 18.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 201.77 Decreased By ▼ -3.16 (-1.54%)
FABL 99.50 Decreased By ▼ -0.60 (-0.6%)
FCCL 53.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.06%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
GGL 25.50 Increased By ▲ 0.66 (2.66%)
HBL 300.31 Increased By ▲ 0.49 (0.16%)
HUBC 216.95 Decreased By ▼ -0.13 (-0.06%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.11 (-1.04%)
KEL 7.16 Decreased By ▼ -0.06 (-0.83%)
LOTCHEM 29.50 Increased By ▲ 0.19 (0.65%)
MLCF 90.69 Decreased By ▼ -1.47 (-1.6%)
OGDC 316.00 Decreased By ▼ -0.29 (-0.09%)
PAEL 41.52 Decreased By ▼ -0.52 (-1.24%)
PIBTL 16.42 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
PIOC 290.00 Decreased By ▼ -10.24 (-3.41%)
PPL 217.50 Increased By ▲ 0.66 (0.3%)
PRL 52.10 Increased By ▲ 1.24 (2.44%)
SNGP 100.20 Decreased By ▼ -1.52 (-1.49%)
SSGC 26.20 Decreased By ▼ -0.78 (-2.89%)
TELE 8.49 Decreased By ▼ -0.16 (-1.85%)
TPLP 13.36 Decreased By ▼ -0.03 (-0.22%)
TRG 58.80 Decreased By ▼ -0.46 (-0.78%)
UNITY 10.10 Decreased By ▼ -0.20 (-1.94%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

سندھ ہائی کورٹ نے کے-الیکٹرک کے حال ہی میں طے کیے گئے متنازعہ ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کر دیا ہے۔ اس ٹیرف کے نتیجے میں بجلی کے سپلائی نرخ میں 7 روپے 60 پیسے فی یونٹ کمی کر کے اسے 39.97 روپے فی کلو واٹ آور سے کم کر کے 32.37 روپے فی کلو واٹ آور کر دیا گیا تھا۔

کے-الیکٹرک کی جانب سے ایڈووکیٹ فروغ نسیم، پوجا کلپنا، بیرسٹر ساگر لدھانی، سید عرفان علی شاہ، حرمت ایم سومرو، ایم معاذ علی زئی اور کمپنی کی لیگل ایڈوائزر نبیتا حسن نے عدالت میں پیش ہو کر نیپرا کے فیصلے کے خلاف دلائل دیے۔

کے-الیکٹرک کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا نے 20 اکتوبر 2025 کو ایسے افراد کی نظرِ ثانی درخواستوں پر فیصلے کیے جو بنیادی کارروائی کا حصہ ہی نہیں تھے۔ کمپنی کی درخواست پر نیپرا نے پہلے جنریشن ٹیرف 22 اکتوبر 2024، ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن ٹیرف 23 مئی 2025، اور سپلائی ٹیرف 27 مئی 2025 کو طے کیا تھا، جسے وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر نوٹیفائی کرنا تھا۔ تاہم بعد ازاں مختلف افراد نے ان فیصلوں کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں دائر کر دیں۔

وکلاء نے بتایا کہ اگرچہ نیپرا نے 20 اکتوبر 2025 کے حکم میں تمام نظرِ ثانی درخواستیں مسترد کر دیں، مگر اپنے ہی سابقہ فیصلے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ٹیرف دوبارہ مقرر کر دیا اور فی یونٹ 32 روپے طے کر دیے۔

کے-الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر وفاقی حکومت نے یہ نیا ٹیرف 30 دن کے اندر نوٹیفائی کر دیا تو کمپنی کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا اور اسے ممکنہ طور پر کچھ عرصے کے لیے آپریشن بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیپرا نے از خود نوٹس لیتے وقت کمپنی کو کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا، جبکہ اس فیصلے کے خلاف نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی جا چکی ہے، لیکن چونکہ ٹریبونل فی الحال فعال نہیں ہے، اس لیے وفاقی حکومت یا نیپرا کی جانب سے زبردستی کے اقدامات کا خطرہ ہے۔

عدالت نے حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے اٹھائے گئے نکات قابلِ غور ہیں، لہٰذا فریقین اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو 19 نومبر 2025 کے لیے نوٹس جاری کیے جائیں۔ اس دوران فیصلے پر عمل درآمد یا کسی قسم کی زبردستی کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت کے دفتر کو ہدایت کی گئی کہ اس حکم کی کاپی متعلقہ درخواستوں کے ساتھ منسلک کی جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.