BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (0.42%)
KSE100 Increased By (0.87%)
KSE30 Increased By (0.83%)
BAFL 58.12 Decreased By ▼ -0.18 (-0.31%)
BIPL 23.38 Increased By ▲ 0.12 (0.52%)
BOP 28.09 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
CNERGY 11.74 Decreased By ▼ -0.54 (-4.4%)
DFML 15.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
DGKC 185.03 Increased By ▲ 2.67 (1.46%)
FABL 92.79 Increased By ▲ 0.29 (0.31%)
FCCL 54.46 Increased By ▲ 0.65 (1.21%)
FFL 13.07 Increased By ▲ 0.27 (2.11%)
GGL 17.70 Decreased By ▼ -0.41 (-2.26%)
HBL 286.16 Increased By ▲ 0.99 (0.35%)
HUBC 197.24 Increased By ▲ 1.96 (1%)
HUMNL 8.64 Increased By ▲ 0.16 (1.89%)
KEL 5.63 Decreased By ▼ -0.01 (-0.18%)
LOTCHEM 23.83 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
MLCF 92.98 Increased By ▲ 1.02 (1.11%)
OGDC 303.63 Increased By ▲ 1.95 (0.65%)
PAEL 31.91 Increased By ▲ 0.10 (0.31%)
PIBTL 12.74 Decreased By ▼ -0.04 (-0.31%)
PIOC 240.41 Increased By ▲ 4.78 (2.03%)
PPL 212.91 Increased By ▲ 0.85 (0.4%)
PRL 84.34 Decreased By ▼ -2.92 (-3.35%)
SNGP 90.03 Increased By ▲ 0.02 (0.02%)
SSGC 22.83 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.50 Increased By ▲ 0.06 (0.93%)
TPLP 11.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.4%)
TRG 51.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.77%)
UNITY 7.58 Decreased By ▼ -0.03 (-0.39%)
WTL 0.95 Increased By ▲ 0.01 (1.06%)

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ کراچی میں گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل ایک سال کے اندر مکمل کر لی جائے گی۔ اس حوالے سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔

گرین لائن منصوبے کے مقام کے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی کاموں کے دوران کراچی کی تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کی مؤثر تکمیل کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)، پاکستان انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی ڈی سی ایل) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ ضروری ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ گرین لائن منصوبے کا پہلا مرحلہ جس کی لاگت 29 ارب روپے تھی، سابق وزیراعظم نواز شریف کا تحفہ تھا، جبکہ دوسرا مرحلہ جس کی مالیت 5.5 ارب روپے اور طوالت 1.8 کلومیٹر ہے وزیراعظم شہباز شریف نے منظور کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا مرحلہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث تاخیر کا شکار تھا جو اب حل کر لی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق منصوبے کے تحت تین نئے اسٹیشن تعمیر کیے جا رہے ہیں اور اس کے دوران کراچی کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کراچی وہ واحد شہر ہے جسے وفاقی حکومت نے اس نوعیت کے نمایاں ترقیاتی منصوبے دیے ہیں۔

احسن اقبال نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ کراچی کے میئر سے رابطے میں ہیں ، تاکہ کے ایم سی کے تحفظات بشمول این او سی، سروس روڈ کے متبادل انتظامات اور واٹر لائن کی منتقلی سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے فور منصوبہ جو ابتدا میں وفاقی اور صوبائی حکومت کا مشترکہ منصوبہ تھا اب مکمل طور پر وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت کراچی کے بڑے منصوبوں جیسے کے فور، این 25 اور کراچی حیدرآباد موٹروے کو ہم آہنگ کر کے شہری رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

احسن اقبال نے انکشاف کیا کہ چین کے شراکت داروں سے کراچی حیدرآباد موٹروے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز جاری ہیں، جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے اردگرد کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے منصوبے پر بھی عمل جاری ہے ،تاکہ بندرگاہ پر 24 گھنٹے آپریشن ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر جلد بین الاقوامی بینکوں کی مالی معاونت سے دوبارہ شروع کی جائے گی۔

تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تعطل 2018 کی نااہل قیادت کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ این 25 ہائی وے منصوبہ بھی وفاقی حکومت کے زیرِ غور ہے، تاکہ سندھ اور بلوچستان کے درمیان سفری روابط کو بہتر بنایا جا سکے۔

آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد دونوں جماعتوں نے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا یہی جمہوریت ہے، مشاورت اور تعاون ہماری اتحادی حکومت کی بنیاد ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت جامع طرزِ حکمرانی اور پی آئی ڈی سی ایل کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر کے ہمراہ سندھ کے وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، رکنِ قومی اسمبلی سید امین الحق اور منصوبے کے دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔

Comments

Comments are closed.