این سی ایل اور پی ای پی اے سی: سی سی او ایس او ایز نے تحلیل کے ٹرانزیشن پلان کی منظوری دے دی
کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارے (سی سی او ایس او ایز) نے نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ (این سی ایل) اور پاکستان انوائرنمنٹل پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچرل کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ (پی ای پی اے سی) کو تحلیل کرنے کے ٹرانزیشن پلان کی منظوری دے دی۔
منظوری دیا جانے والا پلان دونوں اداروں کے مرحلہ وار انخلا، ذمہ داریوں کی منظم منتقلی اور بچ جانے والے امور کے مؤثر انتظام کے لیے فریم ورک پر مشتمل ہے۔ یہ فیصلہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی۔
اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کردہ گورننس اصلاحات، بورڈز کی ازسرِ نو تشکیل اور ایس او ایز (ملکیت و انتظام) پالیسی 2023 کے مطابق سرکاری اداروں کی درجہ بندی سے متعلق متعدد سمریز منظور کی گئیں۔
وزارتِ قومی صحت خدمات، ضابطہ کاری و ہم آہنگی کی سمری منظور کرتے ہوئے جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر (جے ایم سی اینڈ آر سی) کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی تاکہ ادارے کی گورننس اور انتظامی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
وزارتِ تجارت کی سمری بھی منظور کر لی گئی، جس کے تحت اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان (ایس ایل آئی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ازسرِ نو تشکیل کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانا اور ادارے کی نجکاری سے متعلق حکمتِ عملی کو تقویت دینا ہے۔
کمیٹی نے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے پیش کردہ سمری بھی منظور کرلی، جس میں نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ اور پاکستان انوائرنمنٹل پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچرل کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ (پی ای پی اے سی) کو تحلیل کرنے کے ٹرانزیشن پلان کی منظوری شامل ہے۔ پلان میں دونوں اداروں کے باقاعدہ انخلا، ذمہ داریوں کے منظم منتقلی اور بچ جانے والے امور کے مناسب انتظام سے متعلق فریم ورک شامل ہے۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کی سمری منظور کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (پی آئی ایم) کراچی کے بورڈ آف گورنرز کی ازسرِ نو تشکیل کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری و نجی شعبے میں پیشہ ورانہ اور انتظامی تربیت کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
اسی طرح وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے پیش کردہ سمری بھی منظور کرلی گئی، جس کے تحت پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کے بورڈ کی ازسرِ نو تشکیل کی منظوری دی گئی۔ نئے بورڈ سے توقع ہے کہ قومی نشریاتی ادارے کے کارپوریٹ مینجمنٹ کو مضبوط بنانے اور اس کی کارکردگی میں شفافیت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی دو اہم سمریوں کی بھی منظوری دے دی گئی۔ پہلی سمری میں انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ ، پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ کے بورڈز میں خالی نشستوں پر ڈائریکٹرز و ممبران کی نامزدگی جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو شامل تھی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل لازمی طور پر کارپوریٹ گورننس کی تربیت حاصل کریں، جو چھ ماہ کے اندر مکمل کی جانی چاہیے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی دوسری سمری ریاستی ملکیتی اداروں کو اسٹریٹجک اور لازمی نوعیت کے اداروں کی کیٹیگریز میں تقسیم سے متعلق تھی۔ اس حوالے سے کمیٹی میں تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد سی سی او ایس او ایز نے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ نئی کمیٹی میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری نجکاری شامل ہوں گے، جو معاملے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات سی سی او ایس او ایز میں پیش کریں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.