BR100 Increased By (0.84%)
BR30 Increased By (1.17%)
KSE100 Increased By (0.52%)
KSE30 Increased By (0.51%)
BAFL 58.80 Increased By ▲ 0.36 (0.62%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.34 (1.35%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.13 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.43 Increased By ▲ 2.46 (1.27%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.58 Increased By ▲ 0.75 (1.42%)
FFL 18.09 Increased By ▲ 0.14 (0.78%)
GGL 19.33 Increased By ▲ 0.36 (1.9%)
HBL 286.51 Increased By ▲ 1.01 (0.35%)
HUBC 215.01 Increased By ▲ 0.63 (0.29%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.53 Increased By ▲ 1.02 (1.18%)
OGDC 323.00 Increased By ▲ 3.04 (0.95%)
PAEL 40.09 Increased By ▲ 0.67 (1.7%)
PIBTL 17.05 Increased By ▲ 0.38 (2.28%)
PIOC 271.96 Increased By ▲ 5.90 (2.22%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 26.89 Increased By ▲ 0.29 (1.09%)
TELE 8.67 Increased By ▲ 0.39 (4.71%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 70.02 Increased By ▲ 0.31 (0.44%)
UNITY 11.68 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

صنعتی اور زرعی شعبے، وزیراعظم پیکیج کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت 22.98 روپے مقرر

  • پیکج کے تحت فراہم کی جانے والی بجلی کا بوجھ گھریلو صارفین یا کسی دیگر شعبے پر نہیں پڑے گا، وزیر اعظم شہباز شریف
شائع October 23, 2025 اپ ڈیٹ October 24, 2025

وزیرِاعظم شہباز شریف نے آئندہ 3 سال کے لئے صنعتی و زرعی شعبے کو اضافی بجلی سبسڈائز نرخوں پر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

وزیرِ اعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق یہ اعلان صنعتی اور زرعی شعبوں کے ماہرین کے ایک وفد کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ روشن معیشت الیکٹریسٹی پیکج کے تحت صنعتی شعبے کے لیے فی یونٹ لاگت، جو فی الحال 34 روپے ہے اور زرعی شعبے کے لیے 38 روپے ہے کو نمایاں طور پر کم کیا جائے گا اور اضافی یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ نومبر 2025 سے لے کر اکتوبر 2028 تک صنعتی اور زرعی دونوں شعبوں کو سارا سال 22.98 روپے فی یونٹ کی شرح سے اضافی بجلی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پیکج کے تحت فراہم کی جانے والی بجلی کا بوجھ گھریلو صارفین یا کسی دیگر شعبے پر نہیں پڑے گا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ صنعت اور زراعت کی ترقی قومی معیشت کی بڑھوتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہم ملکی صنعتوں اور زرعی شعبے کی علاقائی مقابلہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔

چند دن قبل وفاقی چیمبر نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ صنعت کے لیے طویل مدتی اور مرحلہ وار بجلی کی کھپت پیکج متعارف کرائے تاکہ بھاری بجلی کے نرخوں کی وجہ سے مقابلہ جاتی صلاحیت متاثر نہ ہو۔

وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو لکھے گئے ایک خط میں ایف پی سی سی آئی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ حکومت کا صنعتی بجلی کے نرخوں کو علاقائی سطح (فی یونٹ 6 سے 8 امریکی سینٹ) تک کم کرنے کا سابقہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔

Comments

Comments are closed.