سرحدی کشیدگی: افغانستان کا سہ فریقی سیریز سے دستبرداری کا اعلان
افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے پاکستان کے ساتھ تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت سے انکار کر دیا۔ 17 نومبر سے شیڈول سیریز میں پاکستان اور افغانستان کے ساتھ سری لنکن ٹیم نے شرکت کرنا تھی۔ واضح رہے کہ اے سی بی نے سیزیز سے انکار افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں ہونے والے ایک حملے کے بعد کیا ہے جس میں تین کرکٹرز اور پانچ دیگر افراد مارے گئے تھے۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کی دستبرداری کے بعد، سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز جو پاکستان میں 17 سے 29 نومبر تک شیڈول تھی، اب صرف سری لنکا اور پاکستان کے درمیان کھیلی جائے گی۔
ایک زمانے میں اتحادی رہنے والے اسلام آباد اور کابل حالیہ دنوں میں سرحدی جھڑپوں میں مصروف رہے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گرد حملے افغان طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ طالبان 2021 میں امریکی قیادت والی افواج کے انخلا کے بعد کابل میں دوبارہ برسراقتدار آئے تھے۔
دونوں ممالک کے درمیان تازہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسلام آباد نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ اُن دہشت گردوں کو لگام دے جو پاکستان میں حملے تیز کرچکے ہیں اور مبینہ طور پر افغانستان میں پناہ گاہوں سے کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم طالبان اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں۔
رواں ماہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپیں گزشتہ کئی دہائیوں کی بدترین لڑائی قرار دی جا رہی ہیں۔ اس نے سعودی عرب اور قطر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے، جو ثالثی کرتے ہوئے لڑائی رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ وہ اس تنازع کے حل میں مدد کر سکتے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پاکستان کی جانب سے بارہا سفارتی کوششوں اور افغان حکومت سے اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے مطالبات کے باوجود طالبان حکام نے عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔
ایک روز قبل وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا کہ اب پاکستان کی جانب سے افغانستان کو کسی وفد کی روانگی، سفارتی احتجاج یا درخواست نہیں کی جائے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں کابل کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا، حالانکہ پاکستان نے مخلصانہ کوششیں اور بے شمار قربانیاں دیں۔
انہوں نے 2021 میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے امن قائم کرنے اور افغانستان سے پاکستان میں دراندازی روکنے کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع، آئی ایس آئی حکام، خصوصی مشیران، قومی سلامتی کے مشیر اور سیکریٹری کے متعدد وفود کابل کا دورہ کر چکے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے کابل کو متعدد سفارتی مراسلے (ڈی مارشز) جاری کیے جبکہ افغان حکام کے ساتھ سرحدی سطح پر سینکڑوں فلیگ میٹنگز کے ذریعے اسلام آباد کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2021 کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے 10 ہزار سے زائد واقعات میں 4 ہزار شہری، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار گنواچکا ہے۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اب بھارت کا پراکسی بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ دہشت گردی کی جنگ پاکستان پر بھارت، افغانستان اور ٹی ٹی پی نے مل کر مسلط کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام افغان باشندوں کو اب واپس جانا ہوگا، کیونکہ اب ان کی اپنی حکومت کابل میں قائم ہے اور اسے پانچ سال ہو چکے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح رہنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی زمین اور وسائل 25 کروڑ پاکستانیوں کے ہیں اور اب پچاس سال سے جاری جبری میزبانی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ خوددار قومیں کسی دوسرے ملک کی زمین یا وسائل پر انحصار نہیں کرتیں۔
دوسری جانب افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے ایک بیان میں پکتیکا صوبے کے ارگون ضلع سے تعلق رکھنے والے کرکٹرز کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جنہیں مبینہ طور پر پاکستانی حکومت کے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق ہلاک ہونے والے تین کھلاڑیوں کی شناخت کبیر، صبغت اللہ اور ہارون کے نام سے ہوئی جب کہ 5 دیگر افغان شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ مزید کہا گیا کہ اس واقعے میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے۔
بیان میں بتایا گیا کہ کرکٹرز پکتیکا کے دارالحکومت شرنہ میں ایک دوستانہ کرکٹ میچ میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
افغان کرکٹ بورڈ نے اس سانحے کو افغانستان کی کھیلوں کی برادری، کھلاڑیوں اور کرکٹ فیملی کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا۔





















Comments
Comments are closed.