BR100 Decreased By (-0.42%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.17%)
BAFL 56.81 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 26.90 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
BOP 33.76 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.04 Increased By ▲ 0.16 (1.62%)
DFML 18.30 Increased By ▲ 0.30 (1.67%)
DGKC 203.26 Decreased By ▼ -1.67 (-0.81%)
FABL 99.80 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 52.97 Decreased By ▼ -0.12 (-0.23%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.06 (0.36%)
GGL 25.19 Increased By ▲ 0.35 (1.41%)
HBL 299.75 Decreased By ▼ -0.07 (-0.02%)
HUBC 217.20 Increased By ▲ 0.12 (0.06%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.55 Increased By ▲ 0.24 (0.82%)
MLCF 90.70 Decreased By ▼ -1.46 (-1.58%)
OGDC 317.01 Increased By ▲ 0.72 (0.23%)
PAEL 41.70 Decreased By ▼ -0.34 (-0.81%)
PIBTL 16.58 Increased By ▲ 0.17 (1.04%)
PIOC 297.85 Decreased By ▼ -2.39 (-0.8%)
PPL 217.50 Increased By ▲ 0.66 (0.3%)
PRL 51.80 Increased By ▲ 0.94 (1.85%)
SNGP 100.99 Decreased By ▼ -0.73 (-0.72%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.52 Decreased By ▼ -0.13 (-1.5%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 59.05 Decreased By ▼ -0.21 (-0.35%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.15 (-1.46%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین پر اگست 2025 کے لیے تقریباً 2 روپے فی یونٹ کا اضافی مالی بوجھ عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

نیپرا نے 30 ستمبر کو عوامی سماعت منعقد کی ، جس میں تاجر برادری اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔ منگل کو جاری فیصلے کے مطابق ستمبر 2025 کے لیے 1.79 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ ختم کر دی گئی ہے، جبکہ 0.0796 روپے فی یونٹ کی مثبت ایڈجسٹمنٹ لاگو کی گئی ہے۔

اس طرح اکتوبر کے بلوں میں صارفین پر تقریباً 2 روپے فی یونٹ کا خالص اضافی اثر پڑے گا، جو کہ 3.23 روپے فی یونٹ کے ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے علاوہ وصول کیا جائے گا۔

نیپرا کے ممبر (ٹیکنیکل) رفیق احمد شیخ نے اپنے اضافی نوٹ میں سیکٹر کے اندر مسلسل عدم کارکردگی پر تشویش ظاہر کی۔

ان کے مطابق گڈو پاور پلانٹ کو اوپن سائیکل موڈ میں چلانے سے 956 ملین روپے کا غیر ضروری مالی بوجھ پیدا ہوا جبکہ پارٹ لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز بڑھ کر 3.9 ارب روپے تک جا پہنچے۔

مزید برآں سسٹم کی رکاوٹوں نے 451 ملین روپے کے اضافی اثرات ڈالے، جب کہ ایچ یو ڈی سی سسٹم کی صلاحیت کا صرف 51 فیصد استعمال کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ عوامل نہ صرف صارفین پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

رفیق احمد شیخ نے زور دیا کہ ریگولیٹری فریم ورک صرف محتاط اور جائز اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نااہلیوں سے پیدا ہونے والے اخراجات عوام پر ڈالنا منصفانہ ہے نہ ہی دانشمندانہ ۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی نااہلیوں کو دور کریں، ورنہ پاور سیکٹر کی کمزوریاں قومی معیشت اور گھریلو صارفین پر مزید دباؤ بڑھائیں گی۔

Comments

Comments are closed.