BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Increased By (0.26%)
KSE100 Increased By (0.2%)
KSE30 Increased By (0.12%)
BAFL 58.54 Increased By ▲ 0.09 (0.15%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
BOP 34.10 Decreased By ▼ -0.15 (-0.44%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
DFML 21.00 Increased By ▲ 0.04 (0.19%)
DGKC 198.90 Increased By ▲ 1.43 (0.72%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.39 (0.44%)
FCCL 53.92 Increased By ▲ 0.03 (0.06%)
FFL 18.00 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
GGL 20.55 Increased By ▲ 0.75 (3.79%)
HBL 286.00 Decreased By ▼ -0.06 (-0.02%)
HUBC 216.22 Increased By ▲ 0.82 (0.38%)
HUMNL 11.23 Increased By ▲ 0.23 (2.09%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
LOTCHEM 28.36 Increased By ▲ 0.92 (3.35%)
MLCF 88.68 Increased By ▲ 0.63 (0.72%)
OGDC 324.35 Decreased By ▼ -0.21 (-0.06%)
PAEL 40.55 Increased By ▲ 0.61 (1.53%)
PIBTL 17.32 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 277.99 Increased By ▲ 2.53 (0.92%)
PPL 232.89 Increased By ▲ 0.11 (0.05%)
PRL 34.92 Decreased By ▼ -0.03 (-0.09%)
SNGP 100.64 Increased By ▲ 1.03 (1.03%)
SSGC 27.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
TELE 8.57 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 9.10 Increased By ▲ 0.34 (3.88%)
TRG 72.61 Increased By ▲ 0.86 (1.2%)
UNITY 11.50 Decreased By ▼ -0.17 (-1.46%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین پر اگست 2025 کے لیے تقریباً 2 روپے فی یونٹ کا اضافی مالی بوجھ عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

نیپرا نے 30 ستمبر کو عوامی سماعت منعقد کی ، جس میں تاجر برادری اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔ منگل کو جاری فیصلے کے مطابق ستمبر 2025 کے لیے 1.79 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ ختم کر دی گئی ہے، جبکہ 0.0796 روپے فی یونٹ کی مثبت ایڈجسٹمنٹ لاگو کی گئی ہے۔

اس طرح اکتوبر کے بلوں میں صارفین پر تقریباً 2 روپے فی یونٹ کا خالص اضافی اثر پڑے گا، جو کہ 3.23 روپے فی یونٹ کے ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے علاوہ وصول کیا جائے گا۔

نیپرا کے ممبر (ٹیکنیکل) رفیق احمد شیخ نے اپنے اضافی نوٹ میں سیکٹر کے اندر مسلسل عدم کارکردگی پر تشویش ظاہر کی۔

ان کے مطابق گڈو پاور پلانٹ کو اوپن سائیکل موڈ میں چلانے سے 956 ملین روپے کا غیر ضروری مالی بوجھ پیدا ہوا جبکہ پارٹ لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز بڑھ کر 3.9 ارب روپے تک جا پہنچے۔

مزید برآں سسٹم کی رکاوٹوں نے 451 ملین روپے کے اضافی اثرات ڈالے، جب کہ ایچ یو ڈی سی سسٹم کی صلاحیت کا صرف 51 فیصد استعمال کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ عوامل نہ صرف صارفین پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

رفیق احمد شیخ نے زور دیا کہ ریگولیٹری فریم ورک صرف محتاط اور جائز اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نااہلیوں سے پیدا ہونے والے اخراجات عوام پر ڈالنا منصفانہ ہے نہ ہی دانشمندانہ ۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی نااہلیوں کو دور کریں، ورنہ پاور سیکٹر کی کمزوریاں قومی معیشت اور گھریلو صارفین پر مزید دباؤ بڑھائیں گی۔

Comments

Comments are closed.