پشاور ہائیکورٹ کا گورنر خیبر پختونخوا کو کل تک نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لینے کا حکم
پشاور ہائی کورٹ نے منگل کے روز خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے 15 اکتوبر (بدھ) کی سہ پہر 4 بجے تک حلف لیں، اور اگر اس وقت دستیاب نہ ہوں تو صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کو حلف لینے کا اختیار دیں۔
عدالت نے یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا، جس میں وزیراعلیٰ منتخب سہیل آفریدی کی حلف برداری میں تاخیر کو چیلنج کیا گیا تھا۔
حلف برداری کی تقریب پیر سے موخر ہے، جب سہیل آفریدی 90 ووٹ حاصل کرکے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائدِ ایوان منتخب ہوئے تھے۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل کو “غیر آئینی” قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا۔
تحریری فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ کوئی صوبہ انتظامی سربراہ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو اسپیکر یا کوئی مجاز افسر آئین کے مطابق حلف برداری کی کارروائی مکمل کرے۔
چیف جسٹس عتیق شاہ کی سربراہی میں بننے والے بنچ نے گورنر کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا اور ان کی دستیابی کے بارے میں فوری وضاحت طلب کی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی سرکاری دورے پر کراچی میں موجود ہیں اور منگل تک واپسی متوقع ہے۔
تاہم پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ حلف میں تاخیر دانستہ طور پر جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ایوان میں باضابطہ طور پر استعفیٰ دے چکے ہیں اور نومنتخب وزیراعلیٰ کو ووٹ بھی دیا ہے، لہٰذا استعفیٰ کی منظوری کو جواز بنا کر آئینی عمل کو موخر نہیں کیا جا سکتا۔
پس منظر
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ’’آج نیوز‘‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام میں شامل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق علی امین گنڈاپور کے دو استعفے موصول ہوئے ہیں، جن کی تصدیق ضروری ہے تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ منگل کو پشاور واپس پہنچ کر معاملے کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
دوسری جانب اسپیکر بابرسلیم سواتی نے گورنر ہاؤس کو سہیل آفریدی کے انتخاب کی باضابطہ اطلاع بھیج دی ہے اور درخواست کی ہے کہ حلف برداری آئینی تقاضوں کے مطابق کرائی جائے۔
قانونی غیر یقینی صورتحال برقرار
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ کی قیادت میں اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کا موقف ہے کہ انتخابی کارروائی قانونی حیثیت سے عاری تھی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبہ پہلے ہی پی ٹی آئی کی اندرونی تبدیلیوں اور استعفوں کے باعث انتظامی خلاء کا شکار ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ منگل دوپہر ایک بجے تک رپورٹ پیش کریں کہ آیا گورنر حلف لینے کے لیے دستیاب ہیں یا نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو آئینی عمل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
عدالت کا یہ فیصلہ عوامی عہدے داروں کی آئینی ذمہ داریوں پر عدلیہ کی نگرانی اور اقتدار کی بروقت منتقلی کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






















Comments
Comments are closed.