BR100 Decreased By (-0.21%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Increased By (0.02%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.16 (0.28%)
BIPL 26.79 Decreased By ▼ -0.25 (-0.92%)
BOP 33.40 Decreased By ▼ -0.28 (-0.83%)
CNERGY 10.40 Increased By ▲ 0.59 (6.01%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -0.52 (-2.81%)
DGKC 209.00 Increased By ▲ 1.13 (0.54%)
FABL 98.50 Decreased By ▼ -0.40 (-0.4%)
FCCL 53.56 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
FFL 16.39 Decreased By ▼ -0.29 (-1.74%)
GGL 23.85 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
HBL 302.79 Decreased By ▼ -1.60 (-0.53%)
HUBC 219.29 Increased By ▲ 1.18 (0.54%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.16 (-1.5%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 29.43 Increased By ▲ 0.32 (1.1%)
MLCF 96.20 Increased By ▲ 0.70 (0.73%)
OGDC 317.05 Decreased By ▼ -0.89 (-0.28%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.59 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
PIOC 295.01 Increased By ▲ 15.00 (5.36%)
PPL 219.41 Decreased By ▼ -0.33 (-0.15%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.50 Decreased By ▼ -0.99 (-0.92%)
SSGC 28.95 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.23 Increased By ▲ 0.13 (1.07%)
TRG 60.10 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
UNITY 10.00 Decreased By ▼ -0.11 (-1.09%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ غزہ کی دو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو امریکی سرپرستی میں پیش کیے گئے امن منصوبے کی حمایت پر آمادہ کیا۔

واشنگٹن میں ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے 20 نکاتی منصوبہ جاری کیا، جس میں فوری جنگ بندی، حماس کے قبضے میں موجو یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، حماس کے ہتھیار ڈالنے اور بین الاقوامی نگرانی میں عبوری حکومت کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ حماس اس منصوبے کو قبول کرے گی۔

اردوان نے کہا کہ وہ خونریزی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور ترکیہ اس عمل میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ،تاکہ ایسا منصفانہ اور پائیدار امن قائم ہو جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

یاد رہے کہ ترکی اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دے چکا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو نیتن یاہو حکومت کے خلاف اقدام پر زور دیتا رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.