ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ غزہ کی دو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو امریکی سرپرستی میں پیش کیے گئے امن منصوبے کی حمایت پر آمادہ کیا۔
واشنگٹن میں ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے 20 نکاتی منصوبہ جاری کیا، جس میں فوری جنگ بندی، حماس کے قبضے میں موجو یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، حماس کے ہتھیار ڈالنے اور بین الاقوامی نگرانی میں عبوری حکومت کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ حماس اس منصوبے کو قبول کرے گی۔
اردوان نے کہا کہ وہ خونریزی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور ترکیہ اس عمل میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ،تاکہ ایسا منصفانہ اور پائیدار امن قائم ہو جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
یاد رہے کہ ترکی اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دے چکا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو نیتن یاہو حکومت کے خلاف اقدام پر زور دیتا رہا ہے۔






















Comments
Comments are closed.