ایچ وی ڈی سی لائن کے عدم استعمال پر صارفین پر 86.5 ارب کا بوجھ، آڈیٹر جنرل نے این جی سی کو ذمہ دار ٹھہرا دیا
آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی)، جو پہلے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کہلاتی تھی، کو مٹیاری-لاہور ±660 کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن کے غیر مؤثر استعمال کے باعث بجلی صارفین پر 86.5 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سیلز اینڈ پرچیز آف ٹرانسمیشن سروسز معاہدے کے تحت خریدار کو کمرشل آپریشنز کے آغاز کی تاریخ سے ہی طے شدہ گنجائش کی ادائیگی کرنا لازمی ہے، چاہے اس کا استعمال ہو یا نہ ہو، جو ٹیک یا پے کے انتظام کے تحت تھا۔ پروجیکٹ کی 2015 کی شق 10 کے مطابق بجلی کے نظام کی سیکیورٹی، وولٹیج کنٹرول اور جنریشن ڈسپیچ کی تمام تر ذمہ داری این ٹی ڈی سی/این پی سی سی پر عائد ہوتی ہے۔
ٹرانسمیشن لائن کا پرفارمنس آڈٹ (مالی سال 2023-24 تک) ظاہر کرتا ہے کہ اس کی اصل استعمال شدہ صلاحیت اوسطاً صرف 47.55 فیصد رہی۔ 4,000 میگاواٹ کے ڈیزائن کی صلاحیت اور 98.5 فیصد دستیابی کی بنیاد پر لائن 41.02 ارب یونٹ (کے ڈبلیو ایچ) کم استعمال ہوئی۔ اس کمی کے باعث 86.456 ارب روپے کا ناقابلِ اجتناب مالی بوجھ صارفین پر منتقل ہوا۔
ماہانہ ڈیٹا کے مطابق لائن کا استعمال شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا — نومبر 2021 میں صرف 17 فیصد جبکہ اگست 2023 میں بلند ترین سطح 62 فیصد تک رہا۔ اگرچہ موسم کی طلب میں اضافے کے دوران کارکردگی بہتر ہوئی، لیکن لائن مسلسل اپنی گنجائش سے بہت کم پر چلتی رہی۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق یہ نقصان اس وجہ سے ہوا کہ این ٹی ڈی سی/این پی سی سی بجلی پیداوار اور طلب کو 4,000 میگاواٹ کی طے شدہ کیپیسٹی کے مطابق ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہا۔ اس اسٹریٹجک منصوبے کے افتتاح کے باوجود اس کے مؤثر استعمال کے لیے کوئی مربوط منصوبہ بندی کا نظام وضع نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً صارفین کو آئیڈل کیپیسیٹی پیمنٹس ادا کرنی پڑیں جن کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوا، اور یوں منصوبے کی افادیت متاثر ہوئی۔
جولائی 2025 میں جب یہ معاملہ این ٹی ڈی سی کے انتظامیہ کے سامنے رکھا گیا تو ان کا مؤقف تھا کہ پاور ڈویژن نے پہلے ہی ایچ وی ڈی سی مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن لائن کی مکمل کیپیسٹی کے عدم استعمال“ پر وزیراعظم آفس کو انکوائری رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ تاہم، آڈیٹر جنرل نے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ٹھوس جواز فراہم نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ (i) انکوائری رپورٹ کو آڈٹ حکام کے سامنے پیش کیا جائے، (ii) کیپیسٹی کے عدم استعمال کی وجوہات واضح کی جائیں، اور (iii) مستقبل میں ایسے ٹیک یا پے منصوبوں سے نقصانات روکنے کے لیے جامع نظامی منصوبہ بندی کے پروٹوکول متعارف کرائے جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.