BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو ترک صدر طیب اردوان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ اردوان اس دورے میں امریکا کو پابندیاں ختم کرنے اور ایف 35 لڑاکا طیارے فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ چھ سال بعد ان کا پہلا دورہ وائٹ ہاؤس ہے۔

سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں واشنگٹن نے انقرہ سے فاصلہ رکھا تھا، جس کی بڑی وجہ ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات تھے،تاہم ٹرمپ، جو ماسکو کو زیادہ مثبت نظر سے دیکھتے ہیں اور اردوان سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، کے ساتھ ترکی بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے مؤقف شام کے معاملے میں اب قریب ترہو گئے ہیں لیکن اسرائیل کی غزہ پر کارروائیوں پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ اردوان نے اقوام متحدہ میں کہا کہ غزہ پر خاموش رہنے والے اس ظلم میں شریک ہیں۔

امریکی پابندیوں کے باعث ترکی کو ایف 35 پروگرام سے 2020 میں خارج کیا گیا تھا، تاہم انقرہ کو امید ہے کہ نئی گرمجوشی معاملات میں پیش رفت لا سکتی ہے۔ ترک صدر کے مطابق ملاقات میں ایف 35، ایف 16 طیاروں کی خریداری اور دفاعی تعاون مرکزی نکات ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق ایف 16 طیاروں کا مسودہ تیار ہے لیکن ایف 35 اس وقت تک شامل نہیں ہو سکتے جب تک ترکی کے پاس روسی ایس 400 میزائل موجود ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ترک ایئر لائنز اور بوئنگ کے درمیان 200 سے زائد طیاروں اور 10 ارب ڈالر مالیت کے انجنوں کی ممکنہ ڈیل بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ترکی خطے میں اپنی فضائی طاقت بڑھانے کے لیے یورو فائٹر ٹائیفون سمیت مختلف جنگی طیارے خریدنے کا خواہاں ہے۔

Comments

Comments are closed.