BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو ترک صدر طیب اردوان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ اردوان اس دورے میں امریکا کو پابندیاں ختم کرنے اور ایف 35 لڑاکا طیارے فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ چھ سال بعد ان کا پہلا دورہ وائٹ ہاؤس ہے۔

سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں واشنگٹن نے انقرہ سے فاصلہ رکھا تھا، جس کی بڑی وجہ ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات تھے،تاہم ٹرمپ، جو ماسکو کو زیادہ مثبت نظر سے دیکھتے ہیں اور اردوان سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، کے ساتھ ترکی بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے مؤقف شام کے معاملے میں اب قریب ترہو گئے ہیں لیکن اسرائیل کی غزہ پر کارروائیوں پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ اردوان نے اقوام متحدہ میں کہا کہ غزہ پر خاموش رہنے والے اس ظلم میں شریک ہیں۔

امریکی پابندیوں کے باعث ترکی کو ایف 35 پروگرام سے 2020 میں خارج کیا گیا تھا، تاہم انقرہ کو امید ہے کہ نئی گرمجوشی معاملات میں پیش رفت لا سکتی ہے۔ ترک صدر کے مطابق ملاقات میں ایف 35، ایف 16 طیاروں کی خریداری اور دفاعی تعاون مرکزی نکات ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق ایف 16 طیاروں کا مسودہ تیار ہے لیکن ایف 35 اس وقت تک شامل نہیں ہو سکتے جب تک ترکی کے پاس روسی ایس 400 میزائل موجود ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ترک ایئر لائنز اور بوئنگ کے درمیان 200 سے زائد طیاروں اور 10 ارب ڈالر مالیت کے انجنوں کی ممکنہ ڈیل بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ترکی خطے میں اپنی فضائی طاقت بڑھانے کے لیے یورو فائٹر ٹائیفون سمیت مختلف جنگی طیارے خریدنے کا خواہاں ہے۔

Comments

Comments are closed.