امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ’مثبت‘ رہے، بھارت کا دعویٰ
- دونوں ممالک نے معاہدہ طے کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے، نئی دہلی
بھارت نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ’’مثبت‘‘ رہے اور دونوں ممالک نے معاہدہ طے کرنے کے لیے ’’کوششیں تیز کرنے‘‘ پر اتفاق کیا ہے۔
نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات گزشتہ ماہ اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی دہلی کی جانب سے روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کے جواب میں زیادہ تر بھارتی برآمدات پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھا دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے حکام نے بھارتی آئل ریفائنریز پر ناجائز منافع خوری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کے روسی خام تیل خریدنے کے فیصلے نے ماسکو کی یوکرین میں جنگ کو مالی مدد فراہم کی ہے۔
تاہم گزشتہ ہفتے کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے نسبتاً مصالحت آمیز عوامی بیانات دیے اور کہا ہے کہ وہ تجارتی مذاکرات کے تسلسل کے لیے پرعزم ہیں۔
منگل کے روز بھارتی اور امریکی تجارتی حکام نے دارالحکومت نئی دہلی میں ملاقات کی ہے۔
امریکی وفد میں برینڈن لنچ، معاون تجارتی نمائندہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا بھی شامل تھے۔
بھارتی وزارتِ تجارت نے منگل کی شام جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”بھارت اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کی دیرپا اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات مثبت اور مستقبل پر نظر رکھنے والے رہے، جن میں تجارتی معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔“
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ باہمی طور پر فائدہ مند تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی۔“
اگرچہ بھارت ان چند ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات شروع کیے، لیکن اب تک وہ ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو اس کے ٹیرف کے بوجھ کو کم کر سکے۔
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے برآمدکنندگان پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ آرڈرز منسوخ ہونے اور روزگار کے بڑے پیمانے پر ضیاع کا خطرہ ہے۔
صدر ٹرمپ کا جنگ و امن کے معاملات کو تجارت کے ساتھ جوڑتے ہوئے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا فیصلہ صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا چکا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ دونوں فریق آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم کسی تجارتی معاہدے کے لیے اب بھی مشکل مذاکرات درکار ہوں گے۔
نئی دہلی کے تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو سے وابستہ اجے سریواستو نے منگل کو اپنے ایک نوٹ میں لکھا: ”کسی بھی پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کی جانب سے تیل سے منسلک 25 فیصد ڈیوٹی واپس لینے پر ہے۔ اس کے بغیر کوئی بڑی کامیابی نہ تو سیاسی طور پر ممکن ہے اور نہ ہی اقتصادی طور پر۔“






















Comments
Comments are closed.