سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ پاکستان کی صوبائی حکومتیں زرعی آمدنی ٹیکس کے بے پناہ امکانات کو نظرانداز کر رہی ہیں، جو سالانہ 450 سے 500 ارب روپے لا سکتا ہے، جبکہ پنجاب کا محض 10 ارب روپے کا ہدف انتہائی کم اور شرمناک ہے۔
آج ٹی وی کے ٹاک شو پیسہ بولتا ہے میں انجم ابراہیم سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ چاروں صوبے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیے گئے وعدوں کے تحت زرعی آمدنی ٹیکس قوانین میں ترامیم کر چکے ہیں لیکن ٹیکس وصولی کے اہداف اب بھی نہایت کم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑے زمینداروں اور کاشتکاروں سے مناسب مقدار میں ٹیکس وصول کیا جائے تو حکومت 450 سے 500 ارب روپے اکٹھے کر سکتی ہے۔ ’کم از کم وہ ایک فیصد کسان جو 22 فیصد زمین کے مالک ہیں، ان پر مناسب ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔
دیگر ٹیکس اقدامات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حکومت کی تاجر دوست اسکیم پر عمل درآمد میں ناکامی پر تنقید کی، جس سے 50 ارب روپے جمع ہونے کی توقع تھی۔ حکومت نے ایک مؤثر اسکیم متعارف کرانے کی کوشش کی مگر یہ نفاذ سے پہلے ہی ناکام ہوگئی۔
اسٹاک مارکیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی حالیہ تیزی پر سوال اٹھایا۔ جب غیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ لگانے کے لیے تیار نہیں تو مارکیٹ اوپر کیوں جا رہی ہے؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال پورٹ فولیو انویسٹمنٹ منفی 600 ارب روپے رہی۔ مارکیٹ چند بڑے کھلاڑیوں کے کنٹرول میں ہے جو جب چاہیں اس کی سمت بدل سکتے ہیں۔
ڈاکٹر حفیط پاشا نے خبردار کیا کہ زرعی ٹیکس اصلاحات اور تاجروں کی دستاویز کاری کے بغیر حکومت اپنی ریونیو صلاحیت کو کبھی حاصل نہیں کر پائے گی اور غریبوں پر بوجھ ڈالنے والے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتی رہے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.