وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پیر کے روز ”پاکستان ون ، نیشنل بزنس پلان مقابلہ برائے ایکسپورٹ ایکسی لینس“ کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس کا مقصد نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعی خیالات کو عالمی مسابقت کے حامل کاروبار میں تبدیل کیا جانا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل ”نوجوانوں کی ذہانت، جرات اور تخلیقی صلاحیتوں“ سے وابستہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ملک گیر تحریک کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا، خود روزگاری کے رجحان کو فروغ دینا اور چاروں صوبوں و خطوں میں جدت پر مبنی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
’پاکستان ون، نیشنل بزنس پلان مقابلہ برائے ایکسپورٹ ایکسی لینس‘ کو پانچ سالہ اڑان پاکستان منصوبے کے تحت شروع کیا جائے گا، جس کے تحت ملک بھر سے 10 ہزار سے زائد باصلاحیت نوجوان کاروباری افراد کو شامل کیا جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے ایک ہزار سے زائد بزنس پلانز جمع کیے جائیں گے، جن میں سے کم از کم 500 منصوبوں کو رہنمائی، تربیت اور بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کر کے قابلِ توسیع کاروبار میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس جدت انگیز منصوبے کے تحت، بہترین کاروباری منصوبے کو ریکارڈ 5 ملین ڈالر کا گرینڈ پرائز دیا جائے گا، جو ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا انعام تصور کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کی معیشت کو ”ملازمت تلاش کرنے والی معیشت سے ملازمتیں پیدا کرنے والی معیشت“ میں بدلنے کے عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جدت، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی جدید دور کی معیشت کا بنیادی ستون ہیں۔
وزیر نے کہا کہ پاکستان کی کل برآمدات گزشتہ کئی برسوں سے 27 سے 32 ارب ڈالر کے درمیان رہیں، جن میں ٹیکسٹائل کا حصہ 17.9 ارب ڈالر ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر خدمات سالانہ 15 تا 20 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہیں اور 2030 تک 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔
انہوں نے ایگری ٹیک، فوڈ پروسیسنگ، قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار صنعتی پیداوار جیسے شعبوں کو بھی برآمدات کے روشن امکانات رکھنے والے اہم شعبے قرار دیا۔
احسن اقبال نے پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو خطے میں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے والی منفرد راہداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے پاکستان کو علاقائی تجارت کے بے مثال مواقع میسر آ سکتے ہیں۔
انہوں نے ڈیجیٹل جدت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ای پاکستان منصوبے کے تحت فن ٹیک، ایگری ٹیک اور گرین ٹیک میں نئے سسٹمز تشکیل دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مہارتوں اور اختراع میں سرمایہ کاری ہمارے نوجوانوں کو اقتصادی ترقی کا انجن بنائے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ منصوبہ بندی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمارا ہدف ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جو ترقی، جدت اور عالمی اعتماد کی علامت ہو۔























Comments
Comments are closed.