BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

وفاقی اپیلز کورٹ نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو وسطی امریکہ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے 60 ہزار سے زائد تارکین وطن کے لیے عارضی تحفظات ختم کرنے اور ورک پرمٹ منسوخ کرنے کی اجازت دے دی۔

یو ایس کورٹ آف اپیلز فار نائنتھ سرکٹ کے فیصلے کے تحت حکومت نکاراگوا، ہونڈوراس اور نیپال کے تارکین وطن کے لیے ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس (ٹی پی ایس) ختم کر سکے گی، جب تک کہ اس پالیسی کو چیلنج کرنے والا مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ تین ججوں نے اس فیصلے پر دستخط کیے تاہم قانونی جواز فراہم نہیں کیا۔

اس فیصلے کے تحت نیپالی تارکین وطن کے تحفظات فوراً ختم ہو گئے جو 5 اگست کو ختم ہو چکے تھے۔ ہونڈوراس اور نکاراگوا کے شہریوں کے لیے یہ سہولت 8 ستمبر کو ختم ہو جائے گی۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریشا میکلاکلن نے کہا کہ یہ فیصلہ امیگریشن نظام میں شفافیت بحال کرے گا اور ٹی پی ایس کو ’’ڈی فیکٹو پناہ گزینی نظام‘‘ کے طور پر استعمال ہونے سے روکے گا۔

دوسری جانب یو سی ایل اے سینٹر فار امیگریشن لاء اینڈ پالیسی کے ماہر اہلان ارولاننتھم نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کوئی وجہ بیان نہیں کی اور یہ محض حکومت کے ’اختیارات پر قبضے‘ کی توثیق ہے۔ یاد رہے کہ جولائی میں ڈسٹرکٹ جج ٹرینا تھامپسن نے حکومت کے اس اقدام کو عارضی طور پر روک دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ اس فیصلے کے پیچھے نسلی تعصب کا امکان ہے۔

Comments

Comments are closed.