BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)

متعدد ممالک نے اب ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں تجارت کا آغاز کر دیا ہے، کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغرب مسلسل اقتصادی پابندیوں کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ یہ پابندیاں اس طرح ترتیب دی گئی ہیں کہ تجارت کو سکیڑ دیا جائے، مغربی کنٹرول کے حامل ،مغربی کنٹرول کا حامل ادائیگی نیٹ ورک ( سوئفٹ) کے ذریعے فنڈز کی منتقلی کو روکا جائے اور اثاثوں، چاہے وہ مادی ہوں یا نقدی کی صورت میں، کو منجمد کر دیا جائے۔

یہ رجحان اس وقت خاصی شدت اختیار کر گیا جب امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے روس اور چین جیسے طاقتور ممالک پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کیں، جس کے جواب میں ان ممالک نے پہلے سے موجود پلیٹ فارم برکس (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ) کو تقویت دینے کا فیصلہ کیا، ایک ایسا اتحاد جس کی رکنیت اب ایران جیسے ممالک تک وسیع ہو چکی ہے، اور جس کے خلاف سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام اعلانِ جنگ کر چکے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں مغربی تجزیہ کاروں کی توجہ اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ چین نے امریکہ کے خزانے (ٹریژریز/بانڈز) میں اپنی سرمایہ کاری تقریباً 300 ارب ڈالر تک کم کر دی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری بھی جاری رکھی ہے۔ اگرچہ یہ کمی بظاہر معمولی لگتی ہے کیونکہ چین کے کل امریکی بانڈز اب بھی 3 کھرب ڈالر سے زائد ہیں، لیکن صدر ٹرمپ کی یومِ آزادی (لبریشن ڈے) پر ٹیرف عائد کرنے کی پالیسی کے بعد ان بانڈز کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ان حالات نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا کچھ ممالک گولڈ اسٹینڈرڈ کی طرف واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں، یعنی مقامی کرنسی میں سونے کی قیمت کو مقرر کرنا، بجائے اس کے کہ کرنسی کو ڈالر یا یورو سے منسلک کیا جائے۔

گولڈ اسٹینڈرڈ تجارتی غیر یقینی صورتحال کو کم کرتا تھا، کیونکہ سونے کے ذریعے ادائیگی کی صورت میں، درآمد کرنے والے ملک کے زرِ گردش (منی سپلائی) میں کمی آتی تھی، جس سے افلاس زر (ڈی فلیشن) پیدا ہوتا اور اس ملک کی مصنوعات بین الاقوامی منڈی میں زیادہ مسابقتی ہو جاتیں۔ اس کے برعکس، برآمدات کے نتیجے میں سونا حاصل کرنے والے ممالک میں پیسے کی فراوانی مہنگائی (انفلیشن) کا سبب بنتی، جو ان کی مسابقتی حیثیت کو متاثر کرتی۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو گولڈ اسٹینڈرڈ کے خاتمے کا آغاز دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد ہوا، جب امریکہ دنیا کا سب سے بڑا قرض دہندہ ملک بن کر اُبھرا۔

ابتدائی طور پر گولڈ اسٹینڈرڈ کی جگہ ایک نئے نظام نے لی، جسے ”گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ“ کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں امریکی ڈالر کو ریزرو کرنسی کی حیثیت حاصل تھی، تاہم اسے مقررہ نرخ پر سونے کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا تھا — مگر یہ سہولت صرف مرکزی بینکوں کو حاصل تھی، نجی اداروں یا افراد کو نہیں۔

ابتدائی طور پر یہ نرخ فی اونس سونا 35 امریکی ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، کچھ ممالک نے اس وقت اپنی زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح مبادلہ کو تحفظ دینے کے لیے تجارتی پابندیاں نافذ کرنا شروع کر دیں۔

فرانس کے صدر شارل ڈیگال نے فرانسیسی مرکزی بینک ( بینک ڈی فرانس) میں موجود ڈالر کے ذخائر کو کم کر کے، انہیں سرکاری نرخ پر سونے میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ اس اقدام نے امریکہ کو مسلسل ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹس) کے بحران سے دوچار کر دیا، جو بالآخر اس بات پر منتج ہوا کہ 15 اگست 1971 کو صدر رچرڈ نکسن نے ڈالر کو سونے سے قابلِ تبدیل بنانے کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کیا، اور اس کی جگہ ایسا نظام متعارف کروایا جس میں ڈالر کی وقتاً فوقتاً سونے کے مقابلے میں قدر کم کی جا سکتی تھی۔

دسمبر 1971 میں ڈالر کو 38 ڈالر فی اونس پر ڈی ویلیو کیا گیا، اور بعد ازاں اکتوبر 1973 میں مزید کمی کر کے یہ نرخ 42.22 ڈالر فی اونس مقرر کیا گیا۔ تاہم، اس پالیسی کی ناکامی کے بعد، امریکی ڈالر کو مکمل طور پر فلوٹ (غیر مقررہ شرح مبادلہ) کر دیا گیا، یعنی مارکیٹ قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

اکتوبر 1976 تک امریکہ نے ڈالر کی قانونی تعریف کو باضابطہ طور پر تبدیل کر دیا، اور سونے سے متعلق تمام حوالہ جات قوانین سے نکال دیے گئے۔ تاہم، آج تک متعدد ممالک — جن میں پاکستان بھی شامل ہے، سونے کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ قرار دیتے چلے آ رہے ہیں۔

گولڈ اسٹینڈرڈ کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ اس نے کاغذی کرنسی کے اجرا کا اختیار حکومتی عہدیداروں سے واپس لے لیا تھا — وہ عہدیدار جو اکثر ایسے معاشی مشیروں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں جن کی ترجیحات خالص معاشی نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر استوار ہوتی ہیں۔ گولڈ اسٹینڈرڈ کے تحت ملک کے پاس موجود سونے کی مقدار خود بخود کرنسی کے اجرا کی حد بندی طے کرتی تھی، جس سے افراطِ زر کے خطرات میں کمی آ جاتی تھی۔

پاکستان کی مثال اس سلسلے میں نہایت اہم ہے، جہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی صوابدیدی مالیاتی پالیسیوں کے غلط استعمال نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ جب غیر شفاف طریقے سے کرنسی چھاپی جاتی ہے یا شرح سود پر سیاسی دباؤ آتا ہے، تو عالمی مالیاتی ادارے سخت شرائط عائد کرتے ہیں، جن میں شرحِ رعایتی سود (ڈسکاؤنٹ ریٹ) اور روپے کی بیرونی قدر کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔

تاہم، یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 2012 میں کی جانے والی ایک تحقیق نے گولڈ اسٹینڈرڈ کے حامیوں کی رومانوی سوچ کو رد کر دیا۔ تحقیق کے مطابق، دو تہائی اقتصادی مؤرخین نے اس خیال کو مسترد کیا کہ انیسویں صدی کے دوران گولڈ اسٹینڈرڈ قیمتوں میں استحکام اور کاروباری چکر کی شدت میں کمی کا باعث بنا۔ بلکہ، محققین کے مطابق یہی نظام 1929 کے عظیم مالیاتی بحران (گریٹ ڈپریشن) کو مزید شدید بنانے کا موجب بنا تھا۔

تاہم اس کے باوجود آج بھی بیشتر ممالک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں امریکی ڈالر، یورو، اور سونا ، تینوں کو شامل کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے بڑے سونے کے ذخائر امریکہ کے پاس ہیں، جو 8133 ٹن پر مشتمل ہیں، اس کے بعد بالترتیب جرمنی: 3350 ٹن،اٹلی: 2451.8 ٹن،فرانس: 2436 ٹن، روس: 2330 ٹن، چین: 2299 ٹن،31 جولائی کو غالباً چین کی جانب سے مسلسل سونے کی خریداری کے ردعمل میں امریکہ نے فوری طور پر سوئٹزرلینڈ سے درآمد ہونے والے ایک کلو اور 100 اونس وزن والے سونے کے بسکٹس پر 39 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔

اس فیصلے کے اثرات کو اینڈ گیم میکرو کے ایک ٹوئٹ میں نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا کہ امریکی کسٹمز کے ایک فیصلے نے اُن سونے کے بسکٹس کی درجہ بندی تبدیل کر دی، جو بالکل وہی فارمیٹ رکھتے ہیں جنہیں کا میکس ڈیلیوری کے لیے قبول کرتا ہے، اور اب انہیں ٹیرف کی زد میں لایا گیا ہے۔ یہ اس لیے بھی نہایت اہم ہے کہ سوئٹزرلینڈ دنیا کا سب سے بڑا سونا ریفائن کرنے والا مرکز ہے، اورکامیکس فیوچر معاہدوں کی بنیاد بننے والا فزیکل گولڈ بڑی مقدار میں وہیں سے آتا ہے۔“

اس خبر کے چند ہی گھنٹوں بعد، نیو یارک گولڈ فیوچرز کے پریمیم میں اضافہ ہو کر اسپاٹ پرائس سے تجاوز کر گیا، جو اس امر کی علامت تھا کہ امریکی مارکیٹ میں ڈیلیورایبل گولڈ کی فراہمی اچانک محدود ہو گئی ہے۔ سوئس ریفائنریز نے پہلے ہی شپمنٹس کو سست یا مکمل طور پر روک دیا ہے، جس سے یہ بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس پوری صورتحال کی اصل جڑ لیوریج اور اسٹریٹجک پوزیشننگ ہے۔

امریکہ نے سوئٹزرلینڈ پر دباؤ ڈالتے ہوئے اپنے مقامی ریفائنرز کو 1 کلو اور 100 اونس کے بسکٹس میں براہِ راست قیمتی فائدہ دیا ہے۔ اس اقدام سے نیو یارک فیوچرز مارکیٹ کا پریمیم طویل مدت تک بلند رہ سکتا ہے، چاہے عالمی اسپاٹ قیمتیں مستحکم رہیں۔ ان فارمیٹس میں درآمدات پر مؤثر طور پر حد بندی لگا کر، یہ فیصلہ کامیکس میں شارٹ سیلرز کے لیے خطرہ بڑھا رہا ہے، کیونکہ ڈیلیوری کے لیے بسکٹس حاصل کرنا اب مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔

متبادل راستے جیسے کہ 400 اونس والے بسکٹس کو لندن بھیج کر انہیں امریکی فارمیٹس میں دوبارہ ڈھلوانا، یا سوئٹزرلینڈ کے بجائے دیگر ریفائنریز سے ترسیل کرنا وقت طلب عمل ہے، جس سے قلیل مدت میں فراہمی متاثر ہو گی۔ ممکنہ طور پر یہ پالیسی محض ریونیو حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ گولڈ مارکیٹ کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی جانب ایک قدم ہے — خاص طور پر اُن سونے کے فارمیٹس میں جو عالمی فیوچر قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔

اگرچہ کھیل شاید چین نے جیتا ہو، لیکن یہ سیٹ امریکہ کے نام رہا، اور اب بھی دونوں طاقتوں کے درمیان عالمی معیشت پر غلبے کا فیصلہ کن میچ باقی ہے۔

پاکستان کی مثال لی جائے، تو ملک کے پاس تقریباً 14 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر ہیں، جب کہ صرف رول اوورز کی رقم 16 ارب ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے میں، پاکستان کے سونے کے ذخائر 64.75 ٹن ہیں، جبکہ بھارت کے زرمبادلہ ذخائر 700 ارب ڈالر سے زائد اور سونے کے ذخائر 880 ٹن کے قریب ہیں۔

پاکستان کے لیے اس خلا کو پُر کرنا ایک طویل سفر ہے، جس کے لیے دس سال سے زائد مسلسل، جامع اور اندرونِ خانہ سوچ پر مبنی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ایسی پالیسیاں جو ملک کو بجلی کے شعبے میں قرضوں کے بوجھ سے نجات دلا سکیں — جہاں آج بھی مائیکرو سطح کے فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ درکار ہیں وسیع البنیاد (میکرو) پالیسی اصلاحات۔

اس کے علاوہ ٹیکس نظام کو منصفانہ، مساوی اور غیر متضاد ہونا چاہیے، ایسا نظام جو صرف ریونیو بڑھانے کے ہدف تک محدود نہ ہو بلکہ معاشی انصاف کو بھی یقینی بنائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.