سرکلر ڈیٹ، حکومت نے ایل این جی درآمدات کم کرنے اور گیس سیکٹر اصلاحات کے اقدامات شروع کر دیے
- اصلاحات میں ہر ماہ دو ایل این جی کارگو کی کمی سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں
پیٹرولیم ڈویژن کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ حکومت گیس سیکٹر میں اصلاحات کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس میں ہر ماہ دو ایل این جی کارگو کی کمی سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں تاکہ سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو صفر تک لایا جا سکے۔
موجودہ صورتحال کے مطابق گیس سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ تقریباً 2.6 کھرب روپے ہے، جس کی بنیادی وجہ پاور سیکٹر کی جانب سے آر ایل این جی کا کم استعمال ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
یہ باتیں کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں سامنے آئیں جو 8 اگست 2025 کو ٹاسک فورس ہیڈ کوارٹر، آرمی ایئر ڈیفنس، ویسٹرڈج، راولپنڈی میں وزیرِ پیٹرولیم کی صدارت میں ہوئی۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، سیکرٹری پیٹرولیم اور اوگرا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
وزیرِ پیٹرولیم نے اجلاس میں وزیراعظم کے ساتھ اپنے حالیہ اجلاس کی تفصیلات بیان کیں، جس میں پاور سیکٹر کی جانب سے آر ایل این جی کے کم استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل پیش کیے گئے۔ انہوں نے قطر کے متوقع دورے سے قبل واضح حکمت عملی بنانے پر زور دیا۔ وزیر پٹرولیم نے گزشتہ تین اجلاسوں میں چار ذیلی کمیٹیوں کی پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا:
ذیلی کمیٹی-1: ایل این جی ڈیمانڈ سنکرونائزیشن، سیکرٹری پاور نے بتایا کہ گزشتہ اجلاسوں میں درآمد شدہ کوئلے اور آر ایل این جی کے توانائی خریداری کے نرخوں کا موازنہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ کوئلے کے پلانٹس سے 50 فیصد پیداوار لازمی ہونی چاہیے، مگر فی الحال کم پیداوار لی جا رہی ہے۔ آر ایل این جی پلانٹس کو ’مسٹ رن‘ قرار دینا ممکن نہیں کیونکہ اس سے مجموعی بجلی کی پیداوار پر اثر پڑے گا۔ اس کے لیے پاور اور پیٹرولیم ڈویژن کے درمیان تکنیکی سطح کی کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی(پی پی ایم سی) کے نمائندے نوید قیصر نے بتایا کہ موجودہ آر ایل این جی قیمت پر پاور سیکٹر 340 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کر رہا ہے، جبکہ اگر آر ایل این جی کا نرخ 1,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو تو اضافی 174 ایم ایم سی ایف ڈی اور 2,000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو پر 127 ایم ایم سی ایف ڈی مزید استعمال ممکن ہے۔ اس کے مالی اثرات بالترتیب 88 ارب اور 41 ارب روپے سالانہ ہوں گے۔ کمیٹی نے طے کیا کہ سیکرٹری پاور اور سیکرٹری پیٹرولیم مشترکہ میکانزم کے لیے کام کریں گے۔
ذیلی کمیٹی-2: سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے اقدامات، مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بتایا کہ کے پی ایم جی اور ٹاسک فورس کے ساتھ تفصیلی ڈیٹا کا تبادلہ ہو چکا ہے اور سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان( سی ڈی ایم پی) پر کام جاری ہے۔ سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے پانچ ذرائع پر غور ہو رہا ہے، جن میں آر ایل این جی کارگو کی بچت، پی ایل لاگو کرنا، ایس او ایز کے اضافی ڈیویڈنڈز، پاور سیکٹر سے آر ایل این جی وصولیاں اور گیس پروڈیوسرز سے لیٹ پیمنٹ سرچارج (ایل پی ایس) کی مکمل معافی شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال نے کہا کہ 2031 کے بعد معاہدے کی توسیع کے لیے 24 اضافی کارگو لینے کا امکان ہے۔وفاقی وزیر نے بھی مشورہ دیا کہ فنانس ڈویژن کے تحت پاور ڈویژن کو جو ریونیو استعمال کرنے کی اجازت تھی، وہ پیٹرولیم ڈویژن کے لیے بھی لاگو ہو۔
ذیلی کمیٹی-3: ایل این جی قیمتوں کی اصلاح، سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی آر ایل این جی کے لاگت کے اجزاء، بشمول پی کیو اے چارجز پر کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چونکہ ہر ماہ دو کارگو کی کمی پر غور ہے، اس لیے ٹرمینلز کا بہترین استعمال کر کے لاگت کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
ذیلی کمیٹی-4: گھریلو گیس کی قیمت اور شفافیت، اوگرا کے چیئرمین نے بتایا کہ ریونیو کے اہم جزو، یعنی ریٹرن آن ایسٹ (آر او اے) کا جائزہ لینے کے لیے ایل او آئی جاری کی گئی ہے اور رپورٹ 90 دن میں مکمل ہوگی۔ گیس کی لاگت کل ریونیو کا 89 فیصد ہے، مگر دیگر اخراجات جیسے ایچ آر، ٹی اینڈ ڈی اور غیر موثر گیس (یو ایف جی) کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یو ایف جی اسٹڈی 30 نومبر 2025 تک مکمل کی جائے۔
ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر ٹاسک فورس نے اضافی گیس اور آر ایل این جی کی سپلائی کے حل پر تفصیلی کام کیا ہے اور وزیراعظم و دیگر وزرا کو مختلف آپشنز پیش کیے ہیں تاکہ صنعت اور پاور کے لیے گیس کی قیمت کم ہو اور توانائی کی سیکیورٹی بہتر ہو۔ اس کے علاوہ آر ایل این جی رنگ-فینسنگ کے بجائے صنعت اور پاور کے لیے ایک مشترکہ گیس قیمت کے نفاذ پر غور کیا جا رہا ہے۔
کمیٹی کی حتمی رپورٹ وزیراعظم کے دفتر کو پیش کی جائے گی، اور مین کمیٹی کا اگلا اجلاس 18 اگست 2025 کو ٹاسک فورس ہیڈکوارٹر، راولپنڈی میں متوقع ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.