وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ حکومت نے تقریباً 300 مصنوعات پر وسیع پیمانے پر درآمدی محصولات میں کمی کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد صنعتی ترقی کو فروغ دینا، صارفین کے اخراجات کم کرنا اور برآمدات کی مسابقت بڑھانا ہے۔
ایوان میں توجہ دلانے کے نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے تقریباً 300 اشیاء پر محصولات میں کمی کی منظوری دی ہے، جو بنیادی طور پر وہ مصنوعات ہیں جو پاکستان میں تیار نہیں ہوتیں یا آسانی سے دستیاب نہیں ہیں، جبکہ 900 دیگر مصنوعات پر محصولات قومی ٹیرف پالیسی کے تحت موجودہ سطح پر برقرار رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بعض درآمدی محصولات پہلے 40 فیصد تک پہنچ جاتے تھے۔ نظرثانی شدہ ڈھانچہ درآمد شدہ ان پٹس تک رسائی آسان بنانے اور ویلیو ایڈیڈ پیداوار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عام صارفین کے لیے لاگت کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ان محصولات میں کمی تدریجی طور پر نافذ کی جائے گی، کچھ ایک سال کے اندر اثر میں آئیں گے جبکہ دیگر اگلے دو سے پانچ سال کے دوران مرحلہ وار نافذ ہوں گے، تاکہ مقامی صنعتوں کو ایڈجسٹ ہونے کا وقت مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ محصولات کی معقول ترتیب دی گئی ہے، اور اس اصلاحات کی حمایت کرنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو کریڈٹ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقصد مقامی صنعت کی حمایت اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے تاکہ غیر ضروری رکاوٹیں ختم کی جاسکیں۔
یہ اقدامات پاکستان کی تجارتی اور اقتصادی پالیسی کی وسیع تر سمتِ نو سازی کا حصہ ہیں۔ جام کمال نے بتایا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) میں گورننس اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں فنی ٹیموں اور مشیروں کی تعیناتی شامل ہے تاکہ فنڈنگ کی درخواستوں کا شفاف اور مؤثر جائزہ لیا جا سکے اور ای ڈی ایف کے 30 ارب روپے کے زیر التوا منظوریوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بڑی رقمیں تکنیکی جائزے کے بغیر منظور کی جاتی تھیں، مگر اب یہ صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔
وزارتِ تجارت میں کئی اہم عہدے، بشمول ریسرچ اور کمپلائنس کے سربراہ، طویل عرصے کے خالی رہنے کے بعد بھر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب تجارتی معاہدے اور فریم ورک کے نفاذ کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہے جس میں برطانیہ، ویتنام، کمبوڈیا اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔
جام کمال نے کہا کہ یورپی یونین، جنیوا اور برسلز کے مزید دورے کیے جائیں گے تاکہ جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) اور دیگر تجارتی اقدامات پر مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ (این ای ڈی بی) کے لیے ایک نیا حکمتِ عملی منصوبہ، جس میں شعبہ وار مسائل اور ٹائم لائنز شامل ہیں، مکمل کر لیا گیا ہے اور اسے بورڈ کے اگلے اجلاس میں وزیرِ اعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔





















Comments
Comments are closed.