پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو سرمایہ کاروں نے کاروبار کے آخری سیشن میں منافع حاصل کرنے پر توجہ دی جس کی وجہ سے مارکیٹ اپنی رفتار برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔
مارکیٹ میں ٹریڈنگ سیشن کا آغاز مثبت زون میں ہوا،ایک موقع پر 100 انڈیکس 147,892.25 کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔
تاہم، فروخت کے دباؤ کے سبب دن کے دوران حاصل کردہ تمام منافع زائل ہوگیا اور انڈیکس ٹریڈنگ کے دوران دن کی کم ترین سطح 146,417 تک گرگیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 476.02 پوائنٹس یا 0.32 فیصد کی کمی سے 146,529.30 پوائنٹس پر بند ہوگیا۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ مندی کی بنیادی وجہ منافع حاصل کرنے کا عمل تھا۔
ایک اہم پیش رفت میں موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ایک درجہ بڑھا کر سی اے اے 2 سے سی اے اے 1 کر دیا جس کی وجہ اسلام آباد کی بہتر ہوتی ہوئی بیرونی مالی پوزیشن بتائی گئی ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کے لیے آؤٹ لک مستحکم کردیا ہے۔
یاد ہرے کہ منگل کو پی ایس ایکس نے اتار چڑھاؤ بھرے سیشن کے بعد ریکارڈ سطح پر اختتام کیا، حالانکہ سرمایہ کاروں نے حالیہ منافع سمیٹنے کے لیے بڑی فروخت بھی کی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 75.48 پوائنٹس یا 0.05 فیصد اضافے کے ساتھ 147,005.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر، بدھ کو ایشیائی مارکیٹس میں تیزی دیکھنے کو ملی جبکہ امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا، کیونکہ اعداد و شمار نے بڑی معیشتوں کی مضبوطی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے نرم مالیاتی رویے کی ضرورت کو ظاہر کیا۔
امریکی وال اسٹریٹ نے منگل کو نئی بلندیاں چھو لیں، جس کی وجہ یہ یقین ہے کہ فیڈرل ریزرو اگلے ماہ شرح سود میں کمی کرے گا۔ جاپان کا نِکّی انڈیکس پہلی بار 43,000 کی سطح عبور کر گیا، جبکہ کرپٹو کرنسی ایتھر کی قیمت تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
انتہائی متوقع امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کا اثر ابھی صارفین کی قیمتوں میں منتقل نہیں ہوا۔ جاپان میں ایک رپورٹ سے پتا چلا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بعد مینوفیکچررز کاروباری حالات کے بارے میں زیادہ پُراعتماد ہو گئے ہیں۔
ایم ایس سی آئی آل کنٹری ورلڈ انڈیکس مسلسل دوسرے روز بڑھ کر 948.54 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ جاپان کا نِکّی اسٹاک انڈیکس 1.4 فیصد بڑھا اور مسلسل دوسرے سیشن میں نیا ریکارڈ قائم کیا۔
دریں اثناء پاکستانی روپیہ نے بدھ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہتری کا سلسلہ برقرار رکھا اور 0.07 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر 282.22 روپے رہی، یعنی اس میں 20 پیسے کا اضافہ ہوا۔
ادھر آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 647.09 ملین شیئرز رہا، جو کہ گزشتہ سیشن میں 691.66 ملین تھا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 40.89 ارب روپے رہ گئی، جبکہ پچھلے روز یہ 44.58 ارب روپے تھی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے یوسف ویونگ 51.81 ملین شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہی، اس کے بعد عائشہ اسٹیل مل 48.59 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 33.75 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
بدھ کو مجموعی طورپر 487 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 199 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 240 میں کمی جبکہ 48 کمپنیوں کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
























Comments
Comments are closed.