وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بدھ کو بتایا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کر سکتے ہیں، جبکہ امریکا یوکرین جنگ ختم کروانے کے لیے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جن میں چین بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
اگر ملاقات ہوتی ہے تو یہ جون 2021 کے بعد کسی امریکی اور روسی صدر کی پہلی آمنے سامنے ملاقات ہو گی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ نے بدھ کو یورپی رہنماؤں کو بتایا کہ وہ پہلے پیوٹن سے اور پھر ایک سہ فریقی ملاقات میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بھی ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ بہت جلد ملاقات کا قوی امکان ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ روس نے ٹرمپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے، اور ٹرمپ پیوٹن اور زیلنسکی دونوں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
یہ پیشرفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی جس میں پیوٹن نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے اس ملاقات کو بڑی پیشرفت قرار دیا، حالانکہ انہوں نے اسے بریک تھرو نہیں کہا۔
کریملن نے مذاکرات کو ”کارآمد اور تعمیری“ قرار دیا۔
یہ سفارتی کوششیں اس ڈیڈ لائن سے دو روز قبل کی جا رہی ہیں جو ٹرمپ نے روس کو امن معاہدے کے لیے دی ہے، ورنہ نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
ٹرمپ نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے اور اب چین پر بھی ایسا ہی اقدام متوقع ہے۔ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی تو بھاری محصولات لگائے جائیں گے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ دباؤ روس پر اثر کر رہا ہے، لیکن مکمل سیز فائر کے بغیر امریکا اور یوکرین مطمئن نہیں ہوں گے۔






















Comments
Comments are closed.