نقصان میں چلنے والی کیمیکل ساز کمپنی ستارہ پر آکسائیڈ لمیٹڈ (ایس پی ایل) نے اپنی مالی بحالی کی امیدیں بیلنسنگ، ماڈرنائزیشن اور ری پلیسمنٹ (بی ایم آر) کے ایک مجوزہ منصوبے سے وابستہ کردی ہیں جسے نئے سرمائے اور بینک فنانسنگ کی مدد حاصل ہے۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو فراہم کی گئی رپورٹ کے مطابق، کمپنی کے اسپانسرز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسوسی ایٹڈ کمپنی کے اثاثوں کی فروخت کے ذریعے ایس پی ایل میں 35 کروڑ 50 لاکھ روپے کی اضافی سرمایہ کاری کریں گے جو کہ بی ایم آر منصوبے کے لیے بینک فنانسنگ کے ساتھ استعمال کی جائے گی۔
بی ایم آر منصوبے کے تحت، کمپنی جدید اور مؤثر پیداواری ٹیکنالوجی اپنانے جارہی ہے جس میں موجودہ فکسڈ بیڈ کیٹیلسٹ ٹیکنالوجی کو سلیری بیڈ کیٹیلسٹ ٹیکنالوجی سے تبدیل کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اپگریڈیشن پیداواری عمل میں کارکردگی اور معیار کو بہتر بنائے گی، جس سے موجودہ پلانٹ کی پیداواری صلاحیت میں 40 فیصد اضافہ ہوگا اور مجموعی طور پر کمپنی کی لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
مالیاتی نتائج کے مطابق ستارہ پرآکسائیڈ کو 31 دسمبر 2023 کو ختم ہونے والے چھ ماہ کے دوران 7 کروڑ 63 لاکھ 71 ہزار روپے کا خالص نقصان ہوا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 22 کروڑ روپے کے نقصان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
اسی دوران کمپنی نے بتایا کہ بی ایم آر منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 30,000 ٹن سے بڑھ کر 40,000 ٹن ہو جائے گی، جب کہ پیداوار کے معیار اور کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ٹیکنالوجی اور پلانٹ و مشینری کے سپلائرز سے سرگرم مذاکرات میں مصروف ہے اور ابتدائی ادائیگیاں بھی کی جا چکی ہیں۔ انتظامیہ کو بی ایم آر منصوبے کی کامیابی اور کمپنی کے مستقبل کے آپریشنز پر مکمل اعتماد ہے۔
ستارہ پرآکسائیڈ لمیٹڈ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے، جو کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت پاکستان میں قائم کی گئی تھی (جو اب کمپنیز ایکٹ 2017 سے تبدیل ہو چکا ہے)، اور یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہے۔
کمپنی کی بنیادی سرگرمیاں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ (H₂O₂) اور ستارہ سیف (جراثیم کش محلول) کی تیاری اور فروخت پر مشتمل ہیں۔
























Comments
Comments are closed.