خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ خام تیل کے بڑے صارفین — امریکہ اور یورپی یونین—کے درمیان ابھرتی ہوئی تجارتی جنگ سے ایندھن کی طلب میں اضافے کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جو اقتصادی سرگرمیوں کو کم کرسکتا ہے، اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈالا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 52 سینٹس یا 0.75 فیصد کی کمی سے 68.69 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 51 سینٹس یا 0.76 فیصد کی کمی سے 66.69 ڈالر فی بیرل پر رہے۔ دونوں بینچ مارک آئل پیر کو معمولی کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔
اگست کے ڈبلیو ٹی آئی معاہدے کی مدت منگل کو ختم ہورہی ہے جبکہ زیادہ متحرک ستمبر کا معاہدہ 54 سینٹس یعنی 0.82 فیصد کمی کے ساتھ فی بیرل 65.41 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافے کے درمیان مجموعی طلب سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں، خاص طور پر جب کہ مارکیٹس بڑی معیشتوں کے درمیان تازہ ترین ٹیرف دھمکیوں اور یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل ٹرمپ کے ممکنہ اعلانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار امریکی پابندیوں کے روسی خام تیل پر ممکنہ اثرات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو عالمی مارکیٹ میں اس کے دور رس اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔
سپلائی سے متعلق خدشات بڑی حد تک کم ہو گئے ہیں، کیونکہ بڑے پیداوار کنندگان نے پیداوار میں اضافہ کیا ہے اور 24 جون کو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد کشیدگی کا خاتمہ ہوا ہے، تاہم امریکی تجارتی پالیسی میں تبدیلیوں کے باعث سرمایہ کار عالمی معیشت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا شکار ہیں۔






















Comments
Comments are closed.