BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
پاکستان

میر رضا قتل کیس : پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل

  • ڈی آئی جی عامر فاروقی نئی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کریں گے
شائع اپ ڈیٹ

کراچی سے تعلق رکھنے والے جوان سال تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کا معاملہ اہم موڑ اختیار کر گیا ہے۔آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے بعد سندھ پولیس نے پانچ رکنی نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور کیس میں قتل کی دفعہ شامل کر دی ہے۔

نئی ٹیم کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کی سربراہی ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کریں گے۔ٹیم میں ایس ایس پی ریپڈ ریسپانس فورس (آر آر ایف) سید علی رضا، ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان، ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل انعم تیمور اور زمان ٹاؤن اسٹیشن انویسٹی گیشن آفیسر انسپکٹر چوہدری غضنفر شامل ہیں۔

نئی ٹیم کو میر رضا کی موت کے تمام پہلوؤں کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسے ثبوت جمع کرنے، محفوظ کرنے اور فارنزک شواہد کا ازسرنو تجزیہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

انسپکٹر جنرل اف پولیس (آئی جی) سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ حکام کو تفتیش کی پیشرفت سے آگاہ کریں۔ ٹیم کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر تفتیش مکمل کرکے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

قتل کی دفعہ شامل

ابتدائی طور پر فیروز آباد تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 365 کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم پولیس نے اب ایف آئی آر میں قتل سے متعلق دفعہ 302 شامل کر لی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی دفعہ قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے ابتدائی نتائج کی روشنی میں شامل کی گئی ہے۔

اس سے قبل ابتدائی تفتیش کے لیے ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سمیع اللہ سومرو کی سربراہی میں تین رکنی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر احمد شیخ اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی بھی اس ٹیم کے رکن تھے۔

یہ پیشرفت میر رضا کے اہلخانہ اور ان کے وکیل جبران کی جانب سے دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد موجودہ تحقیقاتی ٹیم کو تبدیل کرنے کے مطالبے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔

دوسرے پوسٹ مارٹم میں تشدد کے انکشافات

آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے ہفتے کو پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے قبرستان میں میر رضا کی میت کی قبر کشائی کی اور دوسرا معائنہ کیا۔ بورڈ نے کیمیائی تجزیے کے لیے نمونے اور شواہد بھی جمع کیے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید طارق کی سربراہی میں قائم میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات کی نشاندہی کی، جن میں کھوپڑی، دانتوں اور پسلیوں کے فریکچر شامل ہیں۔

رپورٹ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ میر رضا کو پیچھے سے گولی لگی تھی، جس سے اہلخانہ کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ ان کی موت کے حالات خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ابتدائی رپورٹ میں کئی دیگر چوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں جسم پر سیاہ نشانات، پاؤں پر زخم، ٹھوڑی کے نیچے گہرا زخم اور پیشانی پر چوٹیں شامل ہیں۔

متعدد پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں، جبکہ چوٹوں کو موت سے قبل کی چوٹیں قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ زخم موت واقع ہونے سے پہلے آئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیٹھ پر گولی لگنے کے زخم کی وجہ سے پھیپھڑوں میں خون جمع ہو گیا تھا۔ گولی کے داخل ہونے کے زخم کا سائز 0.8 سینٹی میٹر تھا جس کے ارد گرد سیاہ نشانات تھے، جبکہ گولی نکلنے کے زخم کی بھی نشاندہی کی گئی۔

دائیں جانب کی چھٹی پسلی متعدد ٹکڑوں میں ٹوٹی ہوئی پائی گئی جبکہ دل پر دو گول زخم دیکھے گئے۔ کھوپڑی کے دائیں جانب گہرا زخم ملا، جس کے ساتھ کھوپڑی کے مختلف حصوں میں فریکچر اور خون جمع تھا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق ناک کی ہڈی کا اگلا حصہ بائیں جانب سے ٹوٹا ہوا تھا جبکہ اوپر والے جبڑے کے چار دانت متاثر ہوئے تھے۔ دائیں جانب کی کولہے کی ہڈی میں 12 سینٹی میٹر کا فریکچر بھی پایا گیا۔

میڈیکل بورڈ نے جسم سے 17 نمونے جمع کیے، جبکہ میر رضا کے والدین سے حوالے کے لیے دو نمونے حاصل کیے گئے۔ نمونے تجزیے کے لیے جامعہ کراچی کی فارنزک لیبارٹری میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔

حتمی نتائج کا انحصار کیمیائی تجزیے اور ڈی این اے رپورٹس پر ہوگا، جو تین سے چار دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

اہلخانہ کا غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ

میر رضا کے اہلخانہ اور وکیل نے موجودہ تحقیقاتی ٹیم کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی موت کی جامع اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا تقاضا کیا تھا۔

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اے آئی جی کراچی کو تفتیش سے دور رکھا جائے اور ان کا کراچی سے تبادلہ کیا جائے۔

میر رضا کے والد میر حسین نے موجودہ تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اہلخانہ آئی جی سندھ یا وزیر اعلیٰ کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی ٹیم کو قبول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلخانہ کے ساتھ خودکشی کا ذکر کرتی رہی جبکہ وہ شروع دن سے اس بات پر قائم تھے کہ میر رضا کو قتل کیا گیا ہے اور ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اہلخانہ نے یہ شکایت بھی کی کہ انہیں تفتیش کی پیشرفت سے آگاہ نہیں رکھا جا رہا اور خبردار کیا کہ اگر تحقیقاتی ٹیم نہ بدلی گئی تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

پس منظر

میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی تھی۔

ابتدائی طبی رپورٹ میں ان کی موت کی وجہ گولی کا زخم بتائی گئی تھی۔ تاہم اہلخانہ نے جسم پر تشدد اور جلنے کے مبینہ نشانات دیکھنے کے بعد اس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

تازہ ترین ابتدائی نتائج نے میر رضا کی موت کے گرد شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے، اگرچہ حتمی وجہ اور حالات کی تصدیق کیمیائی، ڈی این اے اور دیگر فارنزک تجزیے مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔

Comments

200 حروف