مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) ممکنہ طور پر پنجاب حکومت کے آئندہ آنے والے ’’گرین ٹریکٹر پروگرام‘‘ سے مخصوص اقسام کے درآمدی ٹریکٹر ماڈلز کے اخراج پر از خود نوٹس لے سکتا ہے، جو پاکستان کے مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس سے مارکیٹ تک رسائی محدود اور صارفین کے انتخاب میں کمی واقع ہوگی۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو تصدیق کی کہ سی سی پی قانونی طور پر کسی بھی ایسے اقدام کی جانچ کرنے کا اختیار رکھتا ہے جو پاکستانی مارکیٹ میں مسابقت کو محدود کرے، مقامی غلبے کے غلط استعمال یا صارفین کے انتخاب کو محدود کرنے کا سبب بنے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق، حکومتِ پنجاب نے مالی سال 26-2025 کے دوران کسانوں کو 9,500 سبسڈی والے ٹریکٹرز (75 سے 125 ہارس پاور کی رینج میں) فراہم کرنے کے لیے چیف منسٹر پروگرام فار پروویژن آف ہائی پاورڈ ٹریکٹرز کا پی سی ون منظور کر لیا ہے۔ اس ضمن میں اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز) اور درآمد کنندگان کا ایک پری کوالیفکیشن اجلاس بھی حال ہی میں منعقد ہوا۔
تاہم، اسٹیک ہولڈرز نے اس اسکیم پر تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ اس میں صرف مقامی طور پر تیار کردہ 50 سے 65 ہارس پاور والے ٹریکٹرز شامل کیے گئے ہیں، جبکہ اسی نوعیت کے درآمدی ماڈلز کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اس اخراج کی بنیاد واضح نہیں ہے اور یہ مسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن 3 اور سیکشن 4 کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے، جو بالترتیب غلبے کے غلط استعمال اور مسابقت محدود کرنے والے معاہدوں پر پابندی عائد کرتے ہیں۔
حکومت پنجاب کے پورٹل کے مطابق، ’’گرین ٹریکٹر اسکیم‘‘ کسانوں کو فی ٹریکٹر ایک لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے اسکیم کسانوں کو 50 سے 85 ہارس پاور کے ٹریکٹرز سبسڈی قیمتوں پر فراہم کرے گی، جو سب کے سب مقامی طور پر تیار کیے گئے ہیں۔
حکومت پنجاب کے پورٹل کے مطابق مقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹرز اور دیگر مقامی مینوفیکچررز کے ٹریکٹرز کسان بھائی آن لائن دستیاب رجسٹریشن فارم میں صرف انتخاب کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، درآمدی ٹریکٹرز—خاص طور پر 50 سے 65 ہارس پاور کی رینج والے—اکثر جدید فیول سیونگ ٹیکنالوجی اور دیگر مسابقتی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.