حکومت نے پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر داخلہ
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو افراد پاکستان سے بے دخل کیے جائیں گے، انہیں بلیک لسٹ کر دیا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ ملک میں داخل نہ ہو سکیں۔
محسن نقوی نے مزید بتایا کہ ایران نے صرف 10 دنوں میں 3 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کیا، اور پاکستان اب اسی طرز پر مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔
افغانستان کو ایک ’’برادر اسلامی ملک‘‘ قرار دیتے ہوئے محسن نقوی نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر ملکی کو قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر بات چیت جاری ہے، لیکن غیر قانونی قیام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق پی او آر کارڈز کی تجدید کا عمل باضابطہ طور پر روک دیا گیا ہے۔ حکام اب افغان مہاجرین کی مرحلہ وار وطن واپسی کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں محسن نقوی نے بھارت کے ساتھ کسی بھی ’’پسِ پردہ سفارت کاری‘‘ کی تردید کی اور کہا کہ پسِ پردہ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.