وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ہفتے کو کہا ہے کہ ویتنام نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ویتنام پاکستان کو دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک زبردست امکانات کا حامل ملک سمجھتا ہے۔ درمیانی خام مال اور دیگر مصنوعات کے شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں، جنہیں ویتنام دریافت کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہمیں پاکستان اور ویتنام کے درمیان دو طرفہ تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کا ٹاسک دیا ہے جو دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
جام کمال نے کہا کہ ویتنام اپنی عالمی تجارتی مالیت کو موجودہ 800 ارب ڈالر سے بڑھا کر ایک کھرب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، جو پاکستان کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویتنام پلاسٹک اور کاغذ کا دنیا کے سب سے بڑے پیداواری ممالک میں سے ایک ہے اور اس نے پاکستان میں پیداواری یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وہ دوطرفہ سرمایہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ لے رہے ہیں—یعنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے پر غور کررہے ہیں۔
جمعہ کو پاکستان اور ویتنام نے 2025 تک پاکستان-ویتنام ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
تجارت سے متعلق امور ہنوئی میں منعقدہ پاکستان-ویتنام مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کے پانچویں اجلاس میں زیر بحث آئے، جس کے ذریعے آٹھ سال بعد اس ادارہ جاتی فورم کو دوبارہ فعال کیا گیا۔





















Comments
Comments are closed.