ترقی پذیر ممالک کی قرض ادائیگیاں 921 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، اقوامِ متحدہ
- اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دو تہائی کم آمدنی والے ممالک یا تو قرضوں کے بحران کا شکار ہیں یا شدید خطرے سے دوچار ہیں
اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی قرضوں کی ادائیگیاں 2024 میں 74 ارب ڈالر کے اضافے کے ساتھ 847 ارب ڈالر سے بڑھ کر 921 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، رپورٹ کے مطابق دو تہائی کم آمدنی والے ممالک یا تو قرضوں کے بحران کا شکار ہیں یا شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
یہ رپورٹ قرضوں کے بحران کا مقابلہ: پائیدار مالی وسائل کے حصول کے لیے 11 اقدامات’’ کے عنوان سے جاری کی گئی، جسے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل آمینہ محمد نے پیش کیا۔
رپورٹ کی رونمائی کے موقع پر ماہرین محمود محی الدین، پاؤلو جینٹیلونی اور اقوامِ متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی ( یواین سی ٹی اے ڈی) کی سربراہ ربیکا گرینسپن بھی موجود تھیں۔
آمینہ محمد نے کہا کہ ترقی کے لیے قرض لینا ضروری ہے، لیکن آج کے دور میں قرض لینا بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم آمدنی والے دو تہائی ممالک قرضوں کے بحران کا شکار ہو چکے ہیں یا شدید خطرے میں ہیں۔
رپورٹ میں ان ممالک میں قرضوں کی ادائیگیوں میں خاموشی سے آنے والے بحران کی نشاندہی کی گئی ہے اور ترقی کو درپیش خطرات کے باوجود اس بحران سے نکلنے کا راستہ دکھایا گیا ہے۔
آمینہ محمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی منظوری کے ایک عشرے بعد بھی ترقی شدید رکاوٹوں کا شکار ہے۔
ربیکا گرینسپن نے خبردار کیا کہ قرضوں کا بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب 3.4 ارب سے زائد افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں قرضوں کے سود کی ادائیگیوں پر صحت یا تعلیم سے زیادہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کی نسبت 10 کروڑ زیادہ ہے۔
پاؤلو جینٹیلونی نے وضاحت کی کہ یہ بحران بنیادی طور پر قرضوں کی ادائیگیوں کی بڑھتی لاگت سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں میں قرضوں کی سروسنگ کی لاگت تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔
یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ماہرین پر مشتمل گروپ نے تیار کی ہے، جو آئندہ ہفتے اسپین کے شہر سیویل میں ہونے والی ’’چوتھی عالمی کانفرنس برائے ترقیاتی مالیات‘‘ کے اعلامیے ’’کمپرومیسو دے سیویلا‘‘ کی سفارشات کی توثیق کرتی ہے۔
رپورٹ میں 11 ایسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جو تکنیکی طور پر قابلِ عمل اور سیاسی طور پر ممکن ہیں۔
محمود محی الدین نے وضاحت کی کہ ان تجاویز کو دو اہم اہداف میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: مؤثر قرض ریلیف فراہم کرنا اور مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچاؤ۔
رپورٹ میں تین سطحوں پر اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے:
1 . عالمی سطح پر فنڈز میں اضافے کے ذریعے نظام میں نقدی شامل کرنا، بالخصوص کم آمدنی والے ممالک کے لیے ہدفی مدد فراہم کرنا۔
-
بین الاقوامی سطح پر قرض دہندگان اور قرض لینے والوں کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم قائم کرنا۔
-
قومی سطح پر ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، پالیسی کے درمیان ہم آہنگی، شرح سود کے نظم و نسق اور خطرے کے انتظام کو مضبوط بنانا۔
ربیکا گرینسپن نے زور دیتے ہوئے کہا، یہ 11 تجاویز قابلِ عمل ہیں، اور انہیں حقیقت بنانے کے لیے تمام فریقین کا سیاسی عزم درکار ہے۔






















Comments
Comments are closed.