پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) نے مالی سال 2024-25 کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کی سرفہرست اسٹاک مارکیٹوں میں تیسرے پوزیشن حاصل کی جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس نے امریکی ڈالر کی بنیاد پر 55.5 فیصد کا غیر معمولی منافع فراہم کیا۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران صرف گھانا کا جی جی ایس ای سی آئی انڈیکس، جس نے 140.7 فیصد منافع دیا اور سلووینیا کا ایس بی آئی ٹاپ انڈیکس جس نے 56.7 فیصد منافع فراہم کیا، پاکستان کے کے ایس ای 100 انڈیکس سے بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
رواں مالی سال عالمی اسٹاک مارکیٹوں کے مقابلے میں پاکستان نے بڑی ترقی یافتہ اور ابھرتی معیشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
امریکی نیسڈیک انڈیکس نے 14 فیصد،جرمنی کے ڈیکس نے 46.9 فیصد، بھارت کے سین سیکس نے 3.2 فیصد اور جاپان کے نکئی نے 12.8 فیصد منافع دیا۔
زیادہ تر علاقائی مارکیٹیں بہت پیچھے رہ گئیں جہاں ترکیہ اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے بالترتیب منفی 28.1 فیصد اور 13.6 فیصد منافع دیا۔
مالی سال 25-2024 کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو روپے کی بنیاد پر 58.6 فیصد اور ڈالر کی بنیاد پر 55.5 فیصد بڑھا۔100 انڈیکس 78,445 پوائنٹس کی سطح سے بڑھ کر 124,379 پوائنٹس کی سطح پر جاپہنچا۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے کہا کہ یہ غیر معمولی تیزی جارحانہ مالیاتی نرمی، مارکیٹ میں لیکوڈٹی کی بہتری اور اہم شعبوں میں بنیادی قدر کے انکشاف کی بدولت آئی ہے۔
ریجنل پورٹ فولیو سرمایہ کاری
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران تمام درج شدہ خطوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر نیٹ فروخت دیکھی گئی۔ سب سے زیادہ سرمایہ نکالنے والا ملک تائیوان رہا جہاں سے 28.78 ارب ڈالر کی رقم نکالی گئی اس کے بعد جنوبی کوریا میں 23.57 ارب ڈالر اور بھارت میں 11.26 ارب ڈالر کی نیٹ آؤٹ فلو ریکارڈ کی گئی۔
اسی دوران ملائیشیا سے 3.54 ارب ڈالر، ویتنام سے 3.10 ارب ڈالر اور تھائی لینڈ سے 3.20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا انخلا بھی دیکھا گیا۔ نسبتاً کم نیٹ فروخت انڈونیشیا میں 1.63 ارب ڈالر اور فلپائن میں 47 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
ادھر پاکستان سے بھی 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا انخلا ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے تمام خطوں میں یکساں نیٹ سیلنگ کے ممکنہ اسباب میں جغرافیائی کشیدگیاں، امریکہ کی جانب سے جوابی ٹیرف کا اعلان، ابتدائی طور پر عالمی سطح پر بلند شرح سود کے باعث سرمائے کا انخلا،امریکی ڈالر کا دباؤ اور ترقی یافتہ منڈیوں کی جانب جھکاؤ شامل ہیں۔






















Comments
Comments are closed.