پاکستان سولر ایسوسی ایشن (پی ایس اے) نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ گرین انرجی سیکٹر کو سندھ انفراسٹرکچر سیس (ایس آئی سی) سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وسیع تر ماحولیاتی وژن سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
پی ایس اے کے رکن اور ممتاز صنعتکار میاں فراز اسلم، جو قابلِ تجدید توانائی کے حامی ہیں، نے توانائی سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کی ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ قابلِ تجدید توانائی کی صنعت، خصوصاً سولر انرجی کو پالیسی مراعات کے ذریعے اسٹریٹجک معاونت دی جانی چاہیے، جن میں ٹیکس اور سیس سے چھوٹ شامل ہو، تاکہ پاکستان کی پائیدار توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے گرین انرجی سیکٹر کی حمایت کی براہِ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم واقعی پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس وژن پر عملدرآمد کے خواہاں ہیں، جو بارہا پاکستان کے مستقبل کے لیے گرین اور کلین انرجی کی اہمیت پر زور دے چکے ہیں، تو ہمیں قابلِ تجدید توانائی کے آلات پر سندھ انفراسٹرکچر سیس (ایس آئی سی) جیسی رکاوٹیں ختم کرنی ہوں گی۔
میاں فراز، جو عالم گروپ آف کمپنیز کے سربراہ اور پاکستان میں ٹئیر-1 سولر پینلز کے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہیں، نے نشاندہی کی کہ ایس آئی سی ان کمپنیوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہا ہے جو پہلے ہی پائیدار انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.