پاکستان ہاکی ٹیم کوالالمپور میں منعقدہ ایف آئی ایچ ہاکی نیشنز کپ کے فائنل میں آج نیوزی لینڈ کا سامنا کرے گی۔ سابق اولمپئن حسن سردار نے ٹیم کی جارحانہ حکمتِ عملی کو سراہا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دفاعی کمزوریوں پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف ٹائٹل جیتنا مشکل ہوگا بلکہ ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شرکت کا خواب بھی چکناچور ہوسکتا ہے۔
بزنس ریکارڈر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق کپتان حسن سردار، جنہوں نے 1984 میں پاکستان کو اولمپک گولڈ اور 1982 میں ورلڈ کپ کا ٹائٹل جتوایا نے کہا کہ موجودہ ٹیم نے جارحانہ کھیل پیش کرکے شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر فیلڈ گول کرنے اور پینلٹی کارنرز سے فائدہ اٹھانے کی مہارت قابلِ تعریف ہے۔
حسن سردار نے کہا کہ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ہماری فارورڈ لائن فیلڈ گولز اسکور کررہی ہے اور ہم پینلٹی کارنرز کو بھی کامیابی سے گول میں تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ جدید ہاکی میں خوش آئند پیش رفت ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ چیمپئن بننے کا خواب صرف اس صورت میں حقیقت بن سکتا ہے جب دفاع مضبوط ہو اور پوری ٹیم یکجہتی کے ساتھ میدان میں اترے۔
انہوں نے کہا کہ دفاع کے لحاظ سے میں نے کئی خامیاں دیکھی ہیں، ہمیں صرف فارورڈ لائن میں نہیں بلکہ مجموعی طور پر ایک یونٹ کے طور پر کھیلنے کی ضرورت ہے۔
جب فارورڈز آؤٹ آف گیم ہوں تو مڈفیلڈ اور دفاع کو آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ پوری ٹیم کو زنجیر کی طرح جُڑے رہنا ہوگا۔
حسن سردار نے زور دیا کہ جدید ہاکی میں آل راؤنڈ حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
میچ میں دفاع اور دوسری ٹیم پر حملہ اب ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں — آج کی ہاکی میں فتح تبھی ممکن ہے جب تمام گیارہ کھلاڑی ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیں۔ یہی ٹیم ورک آج میچ جتوائے گا۔
نیشنز کپ فائنل: ایلیٹ سطح تک رسائی کا سنہری موقع
نیشنز کپ صرف ایک ٹرافی نہیں، بلکہ ایک دروازہ ہے، آج کی فتح پاکستان کو ایف آئی ایچ پرو لیگ میں پہنچا سکتی ہے، جہاں بلجیم، نیدرلینڈز، جرمنی اور بھارت جیسے عالمی ہاکی کے بڑے نام شامل ہیں۔
حسن سردار نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی لیگ ہے، لیکن اسے جیتنے سے سینئر لیگ کا دروازہ کھل جاتا ہے — وہیں اصل بین الاقوامی ہاکی کھیلی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس کوالیفائی کرنے کے امکانات بہت روشن ہیں۔
خود کو منوانے کا موقع
اگرچہ گروپ مرحلے میں نیوزی لینڈ سے شکست ہوئی، مگر پاکستان نے پورے ٹورنامنٹ میں جس جرات، منظم کھیل اور بہتری کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تعریف ہے۔ سیمی فائنل میں فتح اس بات کا ثبوت تھی کہ ٹیم کا حوصلہ اور اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اب قومی ٹیم کے پاس خود کو منوانے اور پچھلی شکست کا بدلہ چکانے کا موقع ہے — وہ بھی اسی حریف کے خلاف لیکن اس بار داؤ پر صرف میچ نہیں، بلکہ ٹرافی اور ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شمولیت کا سنہری موقع بھی ہے۔
ٹیم کی فتح پر یقین
سابق اولمپئن نے قومی ٹیم کے جذبۂ حوصلہ افزائی کی بھی تعریف کی جو انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان ہاکی ٹیم کی کارکردگی پسند آئی۔ جیتے یا ہارے، تمام میچز اچھے کھیلے گئے۔ یہ ایک خوش آئند علامت ہے کہ ٹیم نے عمدہ کھیل پیش کیا۔
اگرچہ وہ پہلے نیوزی لینڈ سے ہار چکے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیم آج جیتے گی۔ اُن کا حوصلہ بلند ہے اور یہ بہت مثبت اشارہ ہے۔
پاکستان نے جمعہ کو کوالالمپور میں ہونے والے پہلے سیمی فائنل میں فرانس کو پینلٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دے کر ایف آئی ایچ نیشنز کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
میچ مقررہ وقت کے اختتام پر 3-3 گول سے برابر رہا، جس کے بعد مقابلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ میں چلا گیا۔
پاکستان نے پُرسکون رہتے ہوئے 2-3 سے کامیابی حاصل کی اور فائنل میں جگہ بنالی۔
گول کیپر منیب الرحمان نے فرانس کی تین یقینی کوششیں ناکام بنائیں جبکہ رانا وحید اشرف، حنان شاہد اور افراز نے پنلٹی شوٹ آؤٹ میں گول کرکے پاکستان کو فتح دلائی۔
مقررہ وقت میں افراز، سفیان خان اور محمد حمادالدین نے ایک، ایک گول اسکور کیا۔
ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں 3-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے بعد جاپان کے خلاف 3-2 سے کامیابی حاصل کی اور میزبان ملائیشیا کے ساتھ مقابلہ 3-3 گول سے برابر رہا۔
سنہرا ماضی
پاکستان کو بین الاقوامی ہاکی میں کسی بڑے ٹائٹل کی کامیابی حاصل کیے دہائیاں گزر چکی ہیں۔ پاکستان نے آخری بار 1994 میں سڈنی میں منعقدہ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے بعد سے گرین شرٹس مسلسل اپنی سابقہ عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، مگر کامیابی دور ہی رہی۔
تاہم پاکستان اب بھی مردوں کے ہاکی ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹائٹلز جیتنے کا اعزاز رکھتا ہے — پاکستان نے یہ عالمی کپ چار بار اپنے نام کیا (1971، 1978، 1982 اور 1994)۔
عظیم اولمپین حسن سردار، جنہیں ہاکی کی تاریخ کے بہترین فارورڈز میں شمار کیا جاتا ہے، 1982 کے ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے اور 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔






















Comments
Comments are closed.